Facebook YouTube TikTok WhatsApp
بین الاقوامی

امریکا کا مدار میں خلائی ہتھیار نصب کرنے کا اعتراف

✍️ Nazrban Balochistan 📅 15 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

واشنگٹن: امریکا نے پہلی بار باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ زمین کے مدار میں ایک خلائی ہتھیار موجود ہے، جسے امریکی حکام دشمن کے ممکنہ حملوں سے اپنے خلائی اثاثوں کے دفاع کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔

امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک نے کہا کہ بدلتے ہوئے خطرات کے پیش نظر امریکا اپنی خلائی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے، تاہم انہوں نے ہتھیار کی نوعیت، صلاحیت یا اسے مدار میں بھیجے جانے کے وقت سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

روس اور چین کی خلائی صلاحیتیں امریکی تشویش کا باعث

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین ایسے نظام تیار کر رہے ہیں جو مستقبل کے تنازعات میں امریکی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے یا ان کے مواصلاتی نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ سیٹلائٹس فوجی مواصلات، نگرانی اور نیویگیشن کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

امریکی سپیس فورس کے مطابق خلائی کنٹرول میں دفاعی کے ساتھ جارحانہ صلاحیتیں بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے مخالف کی خلائی صلاحیتوں کو متاثر یا غیر فعال کیا جاسکتا ہے۔

گولڈن ڈوم منصوبہ بھی زیرِ بحث

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ گولڈن ڈوم دفاعی نظام بھی امریکی خلائی اور میزائل دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر، تنصیب اور 20 سالہ آپریشن پر تقریباً 12 کھرب ڈالر لاگت آسکتی ہے۔

سی بی او نے خبردار کیا ہے کہ روس یا چین کے بڑے پیمانے پر میزائل حملے کی صورت میں گولڈن ڈوم مکمل طور پر مؤثر ثابت نہ بھی ہو سکے۔

خلا میں عسکری مقابلہ تیز ہونے کا خدشہ

1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی کے تحت مدار میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی ممنوع ہے، تاہم دیگر فوجی خلائی نظام اس پابندی کے دائرے میں نہیں آتے۔

امریکا کی جانب سے خلائی ہتھیار کی موجودگی کا اعتراف عالمی طاقتوں کے درمیان خلا میں بڑھتی ہوئی عسکری مسابقت کی ایک نئی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

US Confirms Space Weapon in Orbit as Military Space Race Intensifies Amid Russian and Chinese Threats

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں