رکھنی میں پولیس پر دہشت گرد حملے میں ڈی ایس پی مرید بگٹی شہید اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا، جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
کوئٹہ: بارکھان کے علاقے رکھنی میں دہشت گردوں کے حملے میں ڈی ایس پی مرید بگٹی شہید جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ڈی ایس پی مرید بگٹی معمول کی گشت پر تھے کہ کھٹہ چوک کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس گاڑی پر حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں ڈی ایس پی مرید بگٹی موقع پر شہید ہوگئے جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔
ایس پی بارکھان عبد الحق نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند نے کہا کہ رکھنی میں دہشت گردوں کے خلاف وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور دہشت گردوں کی تلاش کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
دریں اثنا، معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے ڈی ایس پی مرید بگٹی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شہید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ ریاست دہشت گرد عناصر کو انجام تک پہنچانے کی مکمل صلاحیت اور عزم رکھتی ہے، جبکہ بارکھان میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن خراب کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، قانون کی گرفت سے کوئی دہشت گرد نہیں بچ سکے گا، اور بلوچستان میں امن و استحکام کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس غم کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔



