سیف سٹی نظام کی بروقت کارروائی سے 9 مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی، مختلف جرائم کے 631 اہم شواہد پولیس کو فراہم کیے گئے، استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سے معاونت لینے کا فیصلہ
سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی پر اعلیٰ سطحی اجلاس
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی اور استعداد کار کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے اجلاس کو سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی، اقدامات اور جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج پر بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی مؤثر نگرانی کے نتیجے میں ملک بھر سے چوری شدہ 138 گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ مختلف جرائم کے مقامات سے متعلق 631 اہم شواہد پولیس کو فراہم کیے گئے۔
9 مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی
اجلاس کو بتایا گیا کہ سیف سٹی نظام کی بروقت کارروائی اور جدید نگرانی کے ذریعے 9 مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کو ناکام بنانے میں مدد ملی۔
Modern surveillance technology is helping police detect crimes and suspicious activities more quickly.
بریفنگ کے مطابق 15 مددگار ایمرجنسی رسپانس سروس کو بھی محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) سے منسوب کردیا گیا ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں پولیس کے رسپانس میکنزم کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سے معاونت کا فیصلہ
اجلاس میں بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار مزید بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات اور تکنیکی معاونت سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس سلسلے میں چیف منسٹر پنجاب کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی امن و امان کے قیام اور جرائم کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ مزید یقینی بنایا جائے گا۔
سیف سٹی نظام کو مزید وسعت دینے کی ہدایت
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیف سٹی نظام کو مزید مستحکم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جرائم اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی سے پولیس کی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے جدید نگرانی کے نظام کو صوبے کے مزید علاقوں تک وسعت دی جائے گی، جبکہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔
میر سرفراز بگٹی نے سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان امن و امان کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر رسپانس میکنزم کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔



