مستونگ اور بارکھان میں شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی اجتماعات کا انعقاد
شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، شرکاء کا عزم
شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے خصوصی دعائیں
مستونگ/بارکھان: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شہدائے عدلیہ اور پولیس کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی، اجتماعی دعاؤں اور خیرات کا اہتمام کیا گیا، جس میں عدالتی افسران، پولیس اہلکاروں، وکلاء، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات، صحافیوں اور شہریوں نے شرکت کی۔
مستونگ سیشن کورٹ میں شہدائے عدلیہ کے لیے دعائیہ تقریب
مستونگ سیشن کورٹ کے اسٹاف کی جانب سے شہید ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم اور ان کے گن مین محمد زمان سمالانی شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی، لنگر اور خیرات کا اہتمام کیا گیا۔
واضح رہے کہ 23 جولائی کو ولی خان پھاٹک پر ہونے والے حملے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم اور ان کے گن مین محمد زمان سمالانی شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے تھے۔
دعائیہ تقریب میں عدالتی افسران، مستونگ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء، سیشن کورٹ کے ملازمین، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور سائلین نے شرکت کی۔ شرکاء نے شہداء کی دیانت، فرض شناسی اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری کی جلد صحتیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
بارکھان میں شہید ڈی ایس پی مرید بگٹی کے لیے قرآن خوانی
بارکھان کے پولیس اسٹیشن رکھنی میں ڈی آئی جی کوہ سلیمان ایاز احمد بلوچ اور ایس پی بارکھان عبدالحق کی ہدایات پر ایس ایچ او محمد یونس کی سربراہی میں شہید ڈی ایس پی مرید بگٹی کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی، اجتماعی دعا اور خیرات کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب میں پولیس افسران و اہلکاروں، معزز شہریوں، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات، صحافیوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد شہید ڈی ایس پی مرید بگٹی کے درجات کی بلندی، مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جبکہ ان کے اہلخانہ اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی بھی دعا کی گئی۔
مقررین نے شہید مرید بگٹی کی بہادری، فرض شناسی، عوامی خدمات اور امن و امان کے قیام کے لیے دی گئی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ martyrs’ sacrifices قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
رکھنی کے مختلف مدارس میں بھی خیرات تقسیم کی گئی اور شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔



