ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی، جس میں غذائی قلت کے خاتمے، غذائی تحفظ، خواتین و بچوں کی بہتر غذائیت اور بلوچستان میں ڈبلیو ایف پی کے جاری منصوبوں کے دائرہ کار میں توسیع پر گفتگو ہوئی۔
غذائی قلت کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات
کوئٹہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران باہمی تعاون، صوبے میں غذائی تحفظ کی صورتحال، ڈبلیو ایف پی کے جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے غذائی قلت سے نمٹنے، خواتین اور بچوں کو معیاری غذائیت کی فراہمی اور غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں غذائی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت، عالمی اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مربوط اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
خواتین اور بچوں کی غذائیت پر خصوصی توجہ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت غذائی قلت کے خاتمے اور غذائی تحفظ بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی اداروں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو مناسب اور معیاری غذائیت کی فراہمی صحت مند اور متحرک معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ غذائی قلت انسانی صحت، بچوں کی نشوونما اور مجموعی انسانی ترقی پر براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔
Improving nutrition for women and children is essential for healthier communities and sustainable human development.
ڈبلیو ایف پی منصوبوں کے دائرہ کار میں توسیع
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ غذائی قلت کے خاتمے اور صوبے میں غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے حکومت بلوچستان اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے مشترکہ اقدامات مثبت نتائج کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے ڈبلیو ایف پی کے جاری منصوبوں کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت باہمی تعاون کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے تیار ہے اور غذائی تحفظ و انسانی ترقی کے شعبوں میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، تاکہ بالخصوص خواتین اور بچوں سمیت صوبے کے عوام کو بہتر غذائی سہولیات فراہم کی جا سکیںملاقات کے دوران بلوچستان میں ڈبلیو ایف پی کے موجودہ اقدامات اور مستقبل کے پروگرامز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔



