صوبائی کابینہ نے تعلیم، امن و امان، بلدیاتی نظام، اسکالرشپ پروگرام اور مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں عوامی فلاح، امن و امان، تعلیم، بلدیاتی نظام اور ترقیاتی امور سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے آغاز میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے افسران، اہلکاروں اور شہری شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
صوبائی کابینہ نے چیف منسٹر اسکالرشپ پروگرام کے فیز تھری کی منظوری دیتے ہوئے بلوچستان کے رجسٹرڈ محنت کشوں کے 300 بچوں کو اسلام آباد کے معیاری بورڈنگ اسکولوں میں تعلیم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلدیاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دو یونین کونسلز کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے اور گلستان میں نئی میونسپل کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔
امن و امان سے متعلق فیصلوں کے تحت لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد پورے بلوچستان کو پولیس ایریا قرار دینے، حب کے ماربل سٹی میں نئے پولیس اسٹیشن کے قیام، بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کی تعیناتی اور کوئٹہ سیف سٹی منصوبے کے سروس لیول ایگریمنٹ کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے بلوچستان پلاننگ مینوئل، چائلڈ پروٹیکشن رولز 2026، کیڈٹ کالجز ترمیمی ایکٹ 2026، ہائبرڈ ویٹ پروکیورمنٹ پالیسی، ہرنائی۔سبی روڈ منصوبے کی مالی معاونت، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سروس رولز اور ضلع نصیر آباد میں نئی تحصیل اور سب ڈویژن کے قیام کی بھی منظوری دے دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کابینہ کے تمام فیصلوں پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات، مضبوط طرزِ حکمرانی اور تیز رفتار ترقی کے ثمرات میسر آ سکیں۔



