کوئٹہ ویسٹ انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے احکامات اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر متعدد غیر قانونی کرش پلانٹس کو سیل کردیا، کارروائی جاری رکھنے کا اعلان۔
ویسٹرن بائی پاس پر کرش پلانٹس کے خلاف کارروائی
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف عمر اور اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم نے ویسٹرن بائی پاس پر غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔
کارروائی کے دوران مختلف کرش پلانٹس کا معائنہ کیا گیا، جہاں سپریم کورٹ کے احکامات اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی سامنے آنے پر متعدد غیر قانونی پلانٹس کو سیل کردیا گیا۔
کرش پلانٹس پر پابندی کیوں ہے؟
انتظامیہ کے مطابق ویسٹرن بائی پاس اور گردونواح میں کرش پلانٹس پر پابندی کی اہم وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی، گرد و غبار سے فضائی آلودگی اور شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات شامل ہیں۔
کرش پلانٹس میں پتھر توڑنے اور چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کرنے کے عمل کے دوران بڑی مقدار میں گرد و غبار پیدا ہوسکتا ہے، جو قریبی آبادی کے لیے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
خلاف ورزی پر کارروائی جاری رکھنے کا اعلان
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، عوامی صحت اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی پلانٹ کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف انتظامی کارروائی عمل میں لائی جاتی رہے گی۔



