اسلام آباد: کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، عوامی روابط، تعلیم، ثقافتی تبادلوں اور سیاحت کے فروغ پر اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے (FIPA) پر مذاکرات جلد مکمل کرنے اور پاک۔کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو دوبارہ فعال کرنے پر بھی زور دیا۔
دونوں ممالک نے قابلِ تجدید توانائی، کان کنی، معدنیات، انفراسٹرکچر، زراعت، جدید ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ کینیڈین کمپنی کی جانب سے پاکستان میں 240 میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے میں سرمایہ کاری کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
زراعت کے شعبے میں دونوں ممالک نے خوراک کے تحفظ اور زرعی تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا، جبکہ کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے نئے فائٹو سینیٹری پروٹوکول پر دستخط بھی کیے گئے۔ متعلقہ اداروں کے درمیان تکنیکی تعاون اور استعداد کار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے خطے میں جاری تنازع کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا، جبکہ کینیڈا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) تک پہنچنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ دونوں ممالک نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور امن کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جبکہ کینیڈا نے اقوام متحدہ، انٹرپول اور دیگر اداروں کے ذریعے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
کینیڈا نے پاکستان میں تعلیم، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور صحت کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک اعلیٰ سطح کے روابط اور سالانہ جائزہ اجلاسوں کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔


