کراچی رفتار کا شہر ہے ۔ہر روز یہاں بہت ساری ریسیں لگتی ہیں۔ کامیابی کی ریس۔۔موٹرسائیکلوں کی ریس ۔۔۔گاڑیوں اور بسوں کی ریس۔۔۔لیکن ایک ریس ان سب سے الگ ہوتی ہے۔ ۔۔اور وہ ریس ہوتی ہے گدھا گاڑیوں کی ۔جی ہاں۔۔۔ کمشنر کراچی کی جانب سے گدھا گاڑی ریس کا انعقاد کیا گیا، جس کا آغاز ٹاور سے ہوا، پھر نیٹی جیٹی پل، ایم ٹی خان روڈ سے ہوتی ہوئی یہ ریس کمشنر آفس پر جا کر ختم ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار 40 سے 50 کے قریب گدھا گاڑیوں نے حصہ لیا اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ تیسری پوزیشن حاصل کی لال بادشاہ نے۔دوسرے نمبر پر آیا۔۔۔چیما والا۔۔۔۔اور پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے گدھے کا نام تھا ۔۔۔کوئل۔
یہ گدھا گاڑی کی ریس لیاری برسوں سے جاری ہے ۔اس میں ایک الگ ہی طرح کا جوش ہوتا ہے ، جذبہ ہوتا ہے ، ولولہ ہوتا ہے اور غلغلہ ہوتا ہے ۔
ویسے کراچی والے بھی بڑے خوش قسمت ہیں۔دنیا کے شہروں میں فارمولا ون ہوتی ہے
دبئی میں سپر کار ریس۔۔۔۔اور ہمارے ہاں۔۔۔۔گدھے ریس میں دوڑتے ہیں ۔
اب ذرا تصور کریں۔۔۔۔ایک طرف مہنگی گاڑیاں قسطوں پر۔۔اور دوسری طرف گدھا کہہ رہا ہے۔
بھائی! میں تو بغیر پٹرول، بغیر ڈیزل، بغیر بیٹری کے چلتا ہوں۔۔۔چھوڑو یہ بڑی بڑی گاڑیاں۔۔بس ذرا سا چارہ۔۔پورا کراچی تمہارا۔
اس ریس کے مہمانِ خصوصی میئر کراچی مرتضیٰ وہاب تھے، جبکہ جیتنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ اس ایونٹ کا مقصد کراچی کی پرانی روایت کو زندہ رکھنا تھا، کیونکہ گدھا گاڑی ریس برسوں سے لیاری اور پرانے کراچی کی ثقافت کا حصہ رہی ہے۔
یہ واحد ریس ہے جہاں ڈرائیور نہیں…اصل اسٹار گدھا ہوتا ہے!



