بلوچستان ہائی کورٹ کی غیر قانونی رکشوں، جعلی روٹ پرمٹس اور ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق اہم ہدایات
کوئٹہ میں بغیر روٹ پرمٹ چلنے والے غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے، ضبط شدہ جعلی روٹ پرمٹس کی تحقیقات آگے بڑھانے اور پرمٹ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن جاری رکھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو اقدامات پر عمل درآمد تیز کرنے اور پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی سربراہی میں سماعت
یہ ہدایات بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جاری کیں، جس میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل شامل تھے۔ بینچ نے 8 اکتوبر 2026 کو دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لیا۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کوئٹہ کی معاونت سے عدالت میں رپورٹ پیش کی، جس میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات بیان کی گئیں۔
27 رکشے ضبط، 10 جعلی روٹ پرمٹس برآمد
عدالت کو بتایا گیا کہ آر ٹی اے کوئٹہ نے ٹریفک پولیس کے تعاون سے 12 ستمبر سے 6 اکتوبر 2026 کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی اور بغیر پرمٹ چلنے والے رکشوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کی خلاف ورزی پر 27 رکشے ضبط کیے گئے، جبکہ مختلف چھاپوں کے دوران 10 جعلی رکشہ روٹ پرمٹس بھی قبضے میں لیے گئے۔ حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
9 ہزار 222 روٹ پرمٹس کمپیوٹرائزڈ
روٹ پرمٹ نظام میں شفافیت اور ریکارڈ کو بہتر بنانے کے لیے اب تک 9 ہزار 222 دستی روٹ پرمٹس کو کمپیوٹرائزڈ نظام میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس اقدام کا مقصد ریکارڈ کی درستگی، انتظامی امور میں بہتری اور پرمٹس کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
رکشہ یونین سے مشاورت، مختلف تجاویز پر اتفاق
رپورٹ کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ کے دفتر میں رکشہ یونین کے نمائندوں اور ان کے وکیل کے ساتھ اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکشہ آپریٹرز کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں نئے ڈپلیکیٹ پرمٹس کے اجرا کے لیے رکشوں پر سرخ نشانات ختم کرنے، غیر قانونی طور پر ضبط شدہ رکشوں کو نیلام کرنے کے بجائے قانونی طریقہ کار کے تحت ناکارہ قرار دینے یا تلف کرنے، اور موجودہ پرمٹ ہولڈرز کی بائیومیٹرک تصدیق سمیت دیگر امور زیرِ بحث آئے۔
رپورٹ کے مطابق رکشہ یونین کے نمائندوں اور ان کے وکیل نے تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے باہمی مشاورت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا۔
درخواست گزاروں کا عمل درآمد تیز کرنے پر زور
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا ظفر اقبال محمد حسنی اور شاہ رسول نے عدالت کو بتایا کہ آر ٹی اے حکام کے ساتھ اجلاس مفید رہا اور متعدد اہم تجاویز زیرِ غور آئیں۔ تاہم انہوں نے استدعا کی کہ متعلقہ حکام کو ان اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد اور باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹس پیش کرنے کا پابند بنایا جائے۔
آئینی درخواستیں یکجا کرنے کا حکم
دلائل سننے کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ آئینی درخواست نمبر 230/2026 کو مزید کارروائی کے لیے آئینی درخواست نمبر 1951/2022 کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو غیر قانونی رکشوں کے خلاف اقدامات جاری رکھنے، جعلی پرمٹس سے متعلق تحقیقات آگے بڑھانے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی پیش رفت سے آگاہ رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
Balochistan High Court Orders Crackdown on Illegal Rickshaws in Quetta, Investigation into 10 Fake Permits, and Computerisation of 9,222 Permit Records.



