50 دن میں اسکول مکمل
ابراہیم گوٹھ کنڈی میں بی ایس ڈی آئی کے تحت ریکارڈ مدت میں اسکول کی تعمیر مکمل، مقامی بچیوں کو گھر کے قریب تعلیم کی سہولت میسر آگئی
50 دن میں خالی جگہ سے اسکول تک کا سفر
آواران: بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ کے علاقے ابراہیم گوٹھ کنڈی میں ترقیاتی منصوبے کی بروقت تکمیل کی ایک منفرد مثال سامنے آئی ہے، جہاں گرلز پرائمری اسکول کی تعمیر صرف 50 دن میں مکمل کرلی گئی اور 51ویں روز اسی عمارت میں بچیوں کی باقاعدہ کلاسز کا آغاز کردیا گیا۔
A girls’ primary school in Awaran’s Jhao has been completed in just 50 days, opening new educational opportunities for local girls.
یہ اسکول بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت تعمیر کیا گیا ہے۔ مختصر مدت میں منصوبے کی تکمیل اور فوری طور پر تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز اسے محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ مؤثر عملدرآمد کی قابل ذکر مثال بناتا ہے۔
تعمیر مکمل ہوتے ہی تعلیم کا آغاز
عام طور پر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد انہیں عملی طور پر فعال ہونے میں مزید وقت لگ جاتا ہے، تاہم ابراہیم گوٹھ کنڈی میں اسکول کی تعمیر مکمل ہوتے ہی اگلے روز بچیوں کے لیے کلاسز شروع کردی گئیں۔
نئی عمارت میں تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز سے علاقے کی بچیوں کو اپنے ہی علاقے میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دستیاب ہوگئی ہے۔
بچیوں کے لیے تعلیم کی راہ آسان
اس سے قبل علاقے میں تعلیمی سہولیات محدود ہونے کے باعث مقامی بچیوں کو بنیادی تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا تھا۔
گرلز پرائمری اسکول کے قیام سے اب بچیوں کو اپنے علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل گیا ہے، جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں تسلسل پیدا ہونے اور اسکول تک رسائی بہتر ہونے کی امید ہے۔
نئی عمارت، بہتر تعلیمی ماحول
نئے اسکول کی عمارت علاقے میں بچیوں کے لیے ایک باقاعدہ تعلیمی مرکز فراہم کرتی ہے، جہاں انہیں بہتر تعلیمی ماحول میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
اسکول کی تعمیر اور کلاسز کے فوری آغاز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ترقیاتی منصوبے کی اصل کامیابی صرف اس کی تعمیر مکمل کرنے میں نہیں بلکہ اس کے فوائد فوری طور پر عوام تک پہنچانے میں ہے۔
بروقت تکمیل کو سراہا گیا
یوسی چیئرمین کیمپ کریم عمرانی نے ابراہیم گوٹھ کنڈی گرلز پرائمری اسکول کی بروقت تکمیل کو سراہتے ہوئے اسے علاقے کی بچیوں کے بہتر تعلیمی مستقبل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر اسکول کی سہولت دستیاب ہونے سے بچیوں کو اپنے علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کا بہتر موقع ملے گا۔
مقامی آبادی نے اسکول کے قیام کا خیرمقدم کیا
مرید ملازہی نے بھی اسکول کی تکمیل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب مقامی بچیوں کو اپنے علاقے میں تعلیم کی سہولت میسر آگئی ہے۔
انہوں نے اسکول کے قیام کو علاقے کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔
50 دن کی تعمیر، آنے والی نسلوں کے لیے بنیاد
ابراہیم گوٹھ کنڈی میں قائم ہونے والی یہ عمارت محض اینٹوں، سیمنٹ اور چھت کا مجموعہ نہیں بلکہ علاقے کی بچیوں کے لیے تعلیم کے نئے مواقع کی بنیاد ہے۔
صرف 50 دن میں مکمل ہونے والا یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ جب منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد مؤثر انداز میں ایک ساتھ آگے بڑھیں تو ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے برسوں انتظار ضروری نہیں۔
اسکول کی عمارت سے روشن مستقبل تک
ابراہیم گوٹھ کنڈی میں 51ویں روز کلاسز کا آغاز اس منصوبے کی سب سے اہم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ تعمیر مکمل ہوتے ہی عمارت کو عملی مقصد کے لیے استعمال میں لایا گیا۔
یہ اسکول اب علاقے کی بچیوں کے لیے تعلیم، مواقع اور بہتر مستقبل کی امید بن چکا ہے، جبکہ اس منصوبے کی رفتار بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں بروقت ترقیاتی کاموں کی ایک نمایاں مثال بھی پیش کرتی ہے۔



