Facebook YouTube TikTok WhatsApp
پاکستان

بجلی صارفین پر 46 ارب روپے کا اضافی بوجھ، نیپرا نے فی یونٹ قیمت میں اضافہ کردیا

✍️ Nazrban Balochistan 📅 05 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت 2.06 روپے اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 52 پیسے فی یونٹ اضافی وصول کیے جائیں گے، ستمبر سے نومبر تک صارفین پر مجموعی مالی بوجھ پڑے گا

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جولائی 2026 کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) اور دیگر سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی منظوری دیتے ہوئے بجلی صارفین پر تقریباً 46 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔

Nepra approves additional electricity charges, adding nearly Rs46 billion burden on consumers through fuel cost and quarterly tariff adjustments.

بجلی کی قیمت میں مجموعی اضافہ

نیپرا کے فیصلے کے تحت جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی صارفین سے 2.0581 روپے فی یونٹ اضافی وصول کیے جائیں گے، جبکہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت مزید 0.5194 روپے فی یونٹ وصول ہوں گے۔

اس طرح ستمبر کے بجلی بلوں میں صارفین کو تقریباً 3 روپے فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا ہوگی، جبکہ اکتوبر اور نومبر میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 52 پیسے فی یونٹ اضافی وصول کیے جائیں گے۔

جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ 33 ارب روپے

نیپرا کے مطابق جولائی 2026 کی مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سے صارفین پر تقریباً 33 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی کی خریداری بنی ہے۔

ریگولیٹر نے واضح کیا کہ جولائی کی مثبت ایف سی اے 2.0581 روپے فی کلوواٹ آور کے حساب سے کے الیکٹرک اور ایکس ڈسکوز کے تقریباً تمام صارفین پر لاگو ہوگی۔

کن صارفین پر اضافہ لاگو نہیں ہوگا؟

نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے صارفین اس اضافی فیول چارج سے مستثنیٰ ہوں گے۔

تاہم اضافی بجلی استعمال کرنے والے پیکیج کے صارفین پر بھی جولائی 2026 کی فیول چارج ایڈجسٹمنٹ لاگو ہوگی۔ ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو جولائی کی ایف سی اے ستمبر 2026 کے بلنگ مہینے میں صارفین سے وصول کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 12.67 ارب روپے

نیپرا نے بیک وقت 52 پیسے فی یونٹ کی مثبت سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی منظور کی ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 12.67 ارب روپے صارفین سے وصول کیے جائیں گے۔

نیپرا کے حکم کے مطابق 0.5194 روپے فی کلوواٹ آور کی یہ ایڈجسٹمنٹ ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 کے دوران تین ماہ میں وصول کی جائے گی اور ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے یکساں شرح سے لاگو ہوگی۔

کن اخراجات کی وجہ سے سہ ماہی اضافہ ہوا؟

52 پیسے فی یونٹ کے اضافے سے متعلق مجموعی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کے کیپیسٹی چارجز، متغیر آپریشن اینڈ مینٹیننس اخراجات، یوز آف سسٹم چارجز، مارکیٹ آپریٹر فیس، فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات اور اضافی یونٹس پر پی پی پی کی ریکوری شامل ہے۔

یہ ایڈجسٹمنٹ مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے مختلف اخراجات اور وصولیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ کار

ملک بھر میں رائج ٹیرف نظام کے تحت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا ہر ماہ جائزہ لیا جاتا ہے اور عام طور پر اس کا اثر صرف ایک ماہ کے بجلی بل پر پڑتا ہے۔

اس طریقہ کار کے مطابق ایندھن کی قیمت میں ہونے والی تبدیلیاں ماہانہ بنیادوں پر خودکار طریقے سے صارفین کو منتقل کی جاتی ہیں، جبکہ بجلی کی خریداری کی قیمت، کیپیسٹی چارجز، متغیر آپریشن اینڈ مینٹیننس اخراجات، یوز آف سسٹم چارجز اور ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات جیسے عوامل کی بنیاد پر سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس بھی کی جاتی ہیں۔

صارفین پر مسلسل اضافی مالی دباؤ

نیپرا کے تازہ فیصلے کے نتیجے میں ستمبر میں بجلی صارفین کو ایک ہی وقت میں فیول کاسٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اضافی بوجھ برداشت کرنا ہوگا، جبکہ اکتوبر اور نومبر میں بھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ اضافی رقم وصول کی جائے گی۔

فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے تقریباً 33 ارب روپے اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے مزید 12.67 ارب روپے کی وصولی سے صارفین پر مجموعی اضافی بوجھ تقریباً 46 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑