Facebook YouTube TikTok WhatsApp
بلوچستان

بلوچستان میں انسرجنسی نہیں، چند عناصر علیحدگی کی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں: سرفراز بگٹی

✍️ Nazrban Balochistan 📅 24 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

وزیراعلیٰ بلوچستان نے نوجوانوں کو تعلیم، ترقی اور روشن مستقبل پر توجہ دینے پر زور دیا، میرٹ اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا عزم

نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انسرجنسی نہیں، بلکہ چند عناصر شناخت کی بنیاد پر علیحدگی کی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ گفتگو انہوں نے کوئٹہ میں 21ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس سے نوجوانوں اور صوبے کے مستقبل کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق غیر متوازن ترقی اور پسماندگی کو بلوچستان میں بے امنی کی واحد یا مرکزی وجہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ ترقی کے عدم توازن کا مسئلہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں موجود ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حقائق اور تصورات میں فرق سمجھیں اور بلوچستان کی تاریخ سے آگاہی حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک موجود پاکستان مخالف عناصر کے پروپیگنڈے سے نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، اس لیے نوجوان تعلیم، ترقی اور روشن مستقبل پر توجہ دیں۔The workshop focused on governance, youth opportunities and key challenges facing Balochistan.

میرٹ اور شفافیت پر زور

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلیج کم کرنے کے لیے نوجوانوں کو مختلف سطحوں پر سنا جا رہا ہے۔ انہوں نے میرٹوکریسی کے فروغ کو نوجوانوں کو ان کا جائز حق دینے کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ملازمتوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیسٹنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی حق دار اپنے حق سے محروم نہیں رہے گا اور ملازمتیں میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران صوبے کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر سو فیصد پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ اور چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو بھی فعال کیا گیا ہے۔ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شفافیت اور میرٹ یقینی بنانے کے لیے اداروں کو متحرک کیا جا رہا ہے، جبکہ بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے۔

سوال و جواب کا سیشن

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں اچھی طرز حکمرانی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا۔ حکومت کا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں میرٹ، شفافیت، جوابدہی اور نوجوانوں کے لیے مواقع یقینی بنائے جائیں۔بعد ازاں 21ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے وزیراعلیٰ سے مختلف سوالات کیے، جن کے انہوں نے جوابات دیے۔ سوال و جواب کا سیشن ڈھائی گھنٹے سے زائد جاری رہا، جس میں بلوچستان کی تاریخ، موجودہ صورتحال، حکومتی اقدامات اور گورننس سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں لیپ ٹاپ بھی دیے گئے۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑