سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پنیزئی کا نظربان بلوچستان کو خصوصی انٹرویو، 38 ہزار طبی عملے اور 1700 صحت مراکز کی نگرانی، 11 ہزار وضاحت طلب نوٹس، 800 شوکاز اور 100 ملازمین برطرف
اے آئی نظام سے محکمہ صحت میں حاضری کی نگرانی
کوئٹہ: سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پنیزئی نے نظربان بلوچستان کی نمائندہ سیدہ نتاشہ کو خصوصی انٹرویو میں بتایا ہے کہ محکمہ صحت میں حاضری اور سروس ڈیلیوری کے مسائل پر قابو پانے کے لیے اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے ہزاروں طبی ملازمین اور صحت مراکز کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
سیکریٹری صحت کے مطابق محکمہ صحت کو ماضی میں ایسے ملازمین کے مسئلے کا سامنا تھا جو ہفتے میں صرف دو دن ڈیوٹی پر حاضر ہو کر مکمل ہفتہ حاضری ظاہر کرتے تھے۔ اس مسئلے کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت نے محکمہ آئی ٹی اور چیف سیکریٹری کی معاونت سے اے آئی فیشل ریکگنیشن سسٹم متعارف کرایا۔
38 ہزار ملازمین اور 1700 مراکز کی نگرانی
اے آئی کیمروں کو صحت مراکز کے داخلی راستوں پر نصب کیا گیا ہے۔ ملازمین کا پروفائل بننے کے بعد کیمرے ان کے داخلے اور اخراج کے وقت چہرے کی شناخت کے ذریعے حاضری ریکارڈ کرتے ہیں، جس سے بار بار دستی یا بائیومیٹرک حاضری کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
اس نظام کے ذریعے تقریباً 38 ہزار طبی و انتظامی ملازمین کی نگرانی کی جا رہی ہے، جن میں ڈاکٹرز، پیرا میڈکس، الائیڈ اسٹاف، پروفیسرز، کنسلٹنٹس، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اور انتظامی عملہ شامل ہے۔
نظام صوبے کے تقریباً 1700 صحت مراکز سے روزانہ حاضری کا ڈیٹا حاصل کرتا ہے۔ جہاں کیمروں کی سہولت دستیاب نہیں، وہاں ملازمین مخصوص موبائل ایپ کے ذریعے حاضری درج کرتے ہیں۔
AI-powered monitoring is improving accountability and healthcare service delivery across Balochistan.
دور دراز علاقوں کے لیے آف لائن نظام اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ
سیکریٹری صحت نے بتایا کہ بلوچستان کے وسیع جغرافیائی رقبے اور انٹرنیٹ کی بار بار بندش کے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام میں آف لائن سنک کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
موبائل ایپ اور کیمرے انٹرنیٹ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں حاضری کا ڈیٹا مقامی طور پر محفوظ رکھتے ہیں اور جیسے ہی ڈیوائس کو انٹرنیٹ سے رابطہ ملتا ہے، محفوظ شدہ ڈیٹا خودکار طور پر سرور پر منتقل ہو جاتا ہے۔ اس نظام میں ایک ماہ تک کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔
محکمہ صحت نے سپارکو (SUPARCO) کے ساتھ بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ منصوبے کے تحت ڈی ایچ او اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ دفاتر، رورل ہیلتھ سینٹرز، تحصیل ہیڈکوارٹر، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں اور بعض بنیادی مراکز صحت کو براہ راست سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے منسلک کیا جائے گا۔
غیر حاضری پر سخت انتظامی کارروائیاں
اے آئی مانیٹرنگ سسٹم سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر محکمہ صحت نے غیر حاضری کے خلاف سخت انتظامی کارروائیاں کی ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق:
- 11 ہزار ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس سے وضاحت طلب کی گئی۔
- 800 شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔
- 150 بڑی سزائیں عائد کی گئیں۔
- 100 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
- غیر حاضری کی بنیاد پر 29 کروڑ روپے کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی۔
محکمہ صحت کے اس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مرکزی ڈیٹا پروسیسنگ مرکز بھی قائم کیا جا رہا ہے، جہاں 100 نئے تکنیکی ملازمین خدمات انجام دیں گے۔ مرکز کا افتتاح آئندہ ایک سے دو ماہ میں متوقع ہے، جبکہ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت دیگر شراکت دار ادارے تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
حفاظتی ٹیکہ جات اور صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری
سیکریٹری صحت کے مطابق اے آئی مانیٹرنگ نظام کا اثر صرف حاضری تک محدود نہیں بلکہ صحت کی خدمات کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن (TPV) سروے کے مطابق معمول کی ویکسینیشن میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل الیکٹرانک امیونائزیشن رجسٹری (NEIR) کے استعمال کی شرح تقریباً 8 سے 10 فیصد سے بڑھ کر 65 سے 70 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے لگوانے والے بچوں کی شرح 38 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گئی۔
بلوچستان میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی
سیکریٹری صحت نے بتایا کہ 2024 کے اختتام پر بلوچستان میں پولیو کے 27 مثبت کیسز سامنے آئے تھے، تاہم اس کے بعد صوبے نے مسلسل 21 ماہ تک صفر پولیو کیسز کا ریکارڈ برقرار رکھا ہے۔
ماحولیاتی نمونوں میں مثبت نتائج کی شرح بھی تقریباً 99 فیصد سے کم ہو کر 3 سے 4 فیصد تک رہ گئی ہے۔
اسی طرح غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعے گھروں میں ہونے والی زچگیوں کی شرح 60 فیصد سے کم ہو کر 38 فیصد تک آ گئی ہے۔ اس بہتری کو فعال لیبر رومز، ڈاکٹروں کی بہتر حاضری، ادویات کی دستیابی اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز کے ذریعے خدمات کی نگرانی سے جوڑا گیا ہے۔
ڈاکٹرز کے ڈیٹا لیک کی خبروں کی تردید
سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن پنیزئی نے سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز کے ڈیٹا لیک سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جن معلومات کا حوالہ دیا گیا، ان میں بنیادی پیشہ ورانہ تفصیلات، جیسے نام، فون نمبرز اور تعیناتی کے مقامات شامل تھے، جو پہلے ہی مختلف میڈیکل گروپس میں دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق کوئی حساس ذاتی معلومات افشا نہیں ہوئی اور محکمہ صحت کا بنیادی نظام محفوظ ہے۔
نظام کو مزید مضبوط بنانے کا عزم
سیکریٹری صحت نے کہا کہ اے آئی مانیٹرنگ سسٹم سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار نے محکمہ صحت میں احتساب، حاضری اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ، چیف سیکریٹری اور وزیر صحت نے بھی اس نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے مزید مضبوط بنانے کے لیے مالی اور انتظامی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔



