تین ماہ میں 50 کلو آٹے کا تھیلا 6 ہزار سے بڑھ کر 8 ہزار روپے تک پہنچ گیا
بلوچستان میں گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تین ماہ قبل 6 ہزار روپے میں فروخت ہونے والا 50 کلو آٹے کا تھیلا اب 8 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
آٹے کی قیمتوں میں 2 ہزار روپے کا اضافہ
قیمتوں میں اضافے کے باعث 50 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں تین ماہ کے دوران 2 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے سے کم آمدن والے طبقے اور دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ آٹا روزمرہ خوراک کی بنیادی ضرورت ہے۔
بعض علاقوں میں آٹے کی دستیابی بھی متاثر
صوبے کے بعض علاقوں میں گندم کی قلت کے باعث آٹے کی دستیابی بھی متاثر ہونے لگی ہے۔ شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر گندم کی فراہمی میں بہتری نہ آئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
گندم کی فراہمی اور قیمتوں پر قابو پانے کی ضرورت
موجودہ صورتحال میں گندم کی بلاتعطل فراہمی، آٹے کی دستیابی یقینی بنانے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے رسد کی صورتحال کی نگرانی اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری کی روک تھام جیسے اقدامات عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
بلوچستان میں گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافہ اور بعض علاقوں میں دستیابی متاثر ہونے سے شہری پریشان ہیں، جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے گندم کی فراہمی بہتر بنانے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔
Balochistan faces a wheat shortage as flour prices surge to Rs 8,000 per 50kg bag, up from Rs 6,000 in three months.



