Facebook YouTube TikTok WhatsApp
GOB

بلوچستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیں گے، سرفراز بگٹی

✍️ Nazrban Balochistan 📅 08 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

کوئٹہ، 8 ستمبر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یوم خواندگی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواندگی صرف پڑھنے لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ بچوں کے روشن مستقبل، معاشرتی ترقی اور مضبوط و خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔

3 ہزار 800 سے زائد غیر فعال اسکول بحال

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے تعلیم کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تعلیمی نظام کی بہتری اور اسکولوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں 3 ہزار 800 سے زائد غیر فعال اسکول دوبارہ فعال کیے گئے جبکہ 7 لاکھ 68 ہزار سے زائد اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا۔

بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 ہزار سے زائد نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مزید 1 ہزار 800 اسکولوں کے قیام اور 3 ہزار موجودہ اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

15 ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی

میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ تعلیمی شعبے میں انسانی وسائل کی کمی دور کرنے کے لیے 15 ہزار سے زائد اساتذہ میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت بھرتی کیے گئے ہیں، جس سے تعلیمی اداروں کی استعداد اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں بہتری آ رہی ہے۔

23 ہزار سے زائد وظائف

وزیراعلیٰ کے مطابق بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت گزشتہ دو برسوں میں مختلف اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے 23 ہزار 520 وظائف فراہم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانا، مستحق طلبہ کی معاونت اور نوجوان نسل کو بااختیار بنانا ہے۔

تعلیم مستقبل کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کے لیے تعلیم محض ایک شعبہ نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ہماری منزل واضح ہے، بلوچستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی بحالی، نئے تعلیمی اداروں کے قیام، تعلیمی انفراسٹرکچر کی توسیع اور اساتذہ کی بھرتیوں کا سلسلہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

Sarfraz Bugti Highlights Balochistan’s Education Reforms and Pledges. No Child Will .Remain Out of School

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں