Facebook YouTube TikTok WhatsApp
کھیل

لیاری کی مٹی میں باکسنگ کا جنون نسل در نسل جاری

✍️ Nazrban Balochistan 📅 17 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

کراچی کے علاقے لیاری میں مسلم آزاد باکسنگ کلب سے وابستہ باکسرز نے قومی و پروفیشنل مقابلوں میں کامیابیوں کے ساتھ پاکستان کے لیے اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

خاندان سے جڑی باکسنگ کی روایت

مسلم آزاد باکسنگ کلب میں باکسنگ کی روایت کئی نسلوں سے جاری ہے۔ کلب کے باکسرز کے مطابق ان کے والد اور چچا بھی بین الاقوامی سطح پر باکسنگ کرچکے ہیں، جبکہ کلب ان کے دادا نے قائم کیا تھا۔کلب میں مردوں کے ساتھ خواتین باکسرز کو بھی تربیت دی جاتی ہے، جہاں استاد موسیٰ کامرانی، استاد احمد، استاد پتنی، سر جاوید، جمیل، نور بادشاہ اور امین استاد سمیت دیگر کوچز اور ٹرینرز کی نگرانی میں کھلاڑی اپنی صلاحیتیں بہتر بنا رہے ہیں۔

Boxing training at Muslim Azad Boxing Club continues to develop talented athletes for national competitions.

قومی اور پروفیشنل مقابلوں میں شرکت

کلب سے وابستہ ایک باکسر نے بتایا کہ وہ قومی سطح پر مقابلوں میں حصہ لینے کے بعد پروفیشنل باکسنگ میں بھی آچکے ہیں اور اپنے 3 سے 4 پروفیشنل مقابلوں میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ایک اور باکسر کے مطابق وہ گزشتہ 4 سے 5 سال سے باکسنگ کی تربیت حاصل کررہے ہیں اور تقریباً 30 سے 32 مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں، جن میں قومی سطح کے مقابلے بھی شامل ہیں۔

اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کا عزم

کلب میں 5 سے 6 سال سے تربیت حاصل کرنے والے ایک باکسر نے بتایا کہ خاندان کے سینئر افراد کو باکسنگ کرتے دیکھ کر انہیں بھی اس کھیل میں آنے کا حوصلہ ملا۔انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے کو اپنا ہدف قرار دیا۔

حکومتی معاونت بڑھانے کا مطالبہ

باکسرز کا کہنا ہے کہ باکسنگ، فٹبال اور والی بال سمیت دیگر کھیلوں کو کرکٹ کے مقابلے میں کم حکومتی معاونت حاصل ہے۔ان کے مطابق پاکستانی نوجوانوں میں ٹیلنٹ، محنت اور صلاحیت موجود ہے، تاہم اگر حکومت اور متعلقہ ادارے بہتر مالی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کریں تو کھلاڑی اولمپکس اور دیگر عالمی مقابلوں میں ملک کے لیے میڈلز جیت سکتے ہیں۔

نوجوانوں کو باکسنگ کلب میں آنے کی دعوت

مسلم آزاد باکسنگ کلب سے وابستہ باکسرز نے باکسنگ سیکھنے کے خواہشمند نوجوانوں کو کلب میں آنے کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نئے کھلاڑیوں کو بنیادی مہارتوں سے لے کر اعلیٰ سطح کی تربیت تک مرحلہ وار رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ نئی نسل کے باکسرز تیار کیے جاسکیں۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑