کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والی مہرین بلوچ نے مشکلات کے باوجود باکسنگ میں قومی اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی ہے۔
خاندان کی مخالفت سے قومی ٹیم تک سفر
مہرین بلوچ کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے، جہاں فٹبال اور باکسنگ کو کھیلوں کی ثقافت میں خاص مقام حاصل ہے۔ تاہم باکسنگ میں قدم رکھنے کے دوران انہیں سماجی دباؤ کے ساتھ اپنے بھائیوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا، جو ابتدا میں سمجھتے تھے کہ باکسنگ لڑکیوں کیلئے مناسب کھیل نہیں۔
مہرین کے والد نے ان کے شوق اور مقصد کی حمایت کی اور انہیں باکسنگ جاری رکھنے کا موقع دیا۔ والدین کی حوصلہ افزائی سے مہرین نے اپنی تربیت جاری رکھی اور قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں۔
Her journey from Lyari to the national boxing team reflects determination, courage and perseverance.
قومی میڈل نے خاندان کی سوچ بدل دی
قومی سطح پر کامیابی حاصل کرکے میڈل جیتنے کے بعد مہرین کے بھائیوں کی سوچ بھی تبدیل ہوگئی۔ ان کی کامیابی نے خاندان میں فخر کا احساس پیدا کیا اور مہرین کو مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا۔
مہرین گزشتہ 11 برس سے زائد عرصے سے باکسنگ سے وابستہ ہیں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔
قومی اور عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں
مہرین بلوچ نے پشاور میں ہونے والے نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ ساؤتھ ایشین گیمز میں برانز میڈل جیتا۔
انہوں نے برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت کی اور کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
اولمپکس اور ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کا ہدف
مہرین بلوچ کا اگلا بڑا ہدف ایشین گیمز یا اولمپکس میں پاکستان کیلئے گولڈ میڈل جیتنا ہے۔ وہ اپنے کھیل کے ذریعے پاکستان کی نوجوان لڑکیوں کیلئے امید اور حوصلے کی مثال بننا چاہتی ہیں۔
لیاری کی گلیوں سے شروع ہونے والا مہرین کا باکسنگ سفر آج قومی اور عالمی سطح تک پہنچ چکا ہے، جو پاکستان میں خواتین کے کھیلوں میں بڑھتی شرکت کی ایک نمایاں مثال ہے۔



