کوئٹہ میں کارروائی، جیو لوجسٹ/ڈپٹی ڈائریکٹر طلحہ بگٹی گرفتار، دیگر مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری، تحقیقات کا دائرہ وسیع
سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی نیلامی زیرِ تفتیش
کوئٹہ: محکمہ آبپاشی بلوچستان کے قیمتی سرکاری اثاثوں، گاڑیوں اور بھاری مشینری کو مبینہ طور پر انتہائی کم قیمت پر نیلام کیے جانے کے معاملے پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
کارروائی کے دوران جیو لوجسٹ/ڈپٹی ڈائریکٹر طلحہ بگٹی کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دیگر مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے اینٹی کرپشن بلوچستان کی ٹیموں کی جانب سے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
قومی خزانے کو ممکنہ کروڑوں روپے کے نقصان کا جائزہ
ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی بلوچستان کی قیمتی سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں، اثاثوں کی کم قیمت مقرر کیے جانے اور قومی خزانے کو ممکنہ طور پر کروڑوں روپے کے نقصان کے الزامات سامنے آنے کے بعد فوجداری کارروائی شروع کی گئی۔
تحقیقاتی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی اصل مالیت کے مقابلے میں ان کی نیلامی کس بنیاد پر کم قیمت پر کی گئی اور اس عمل میں محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کا کیا کردار رہا۔
Anti-corruption investigators are reviewing the auction process and alleged financial losses to the state.
طلحہ بگٹی گرفتار، مزید گرفتاریوں کا امکان
ذرائع کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے دوران جیو لوجسٹ/ڈپٹی ڈائریکٹر طلحہ بگٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں نامزد یا مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے اینٹی کرپشن بلوچستان کی ٹیمیں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کسی ایک شخص تک محدود نہیں بلکہ محکمہ آبپاشی میں مذکورہ نیلامی کے پورے عمل اور اس سے وابستہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں اہم شواہد سامنے آنے کا دعویٰ
ذرائع کے مطابق معاملے کی ابتدائی تحقیقات ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن فرید سخی اور ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن شیخ منیر مندوخیل نے کیں۔
تحقیقات کے دوران سرکاری ریکارڈ، نیلامی کے طریقہ کار، اثاثوں کی قیمتوں کے تعین اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آنے کے بعد معاملہ فوجداری کارروائی کے لیے آگے بڑھایا گیا۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش انویسٹی گیشن آفیسر عزیز احمد کے سپرد کر دی گئی ہے۔
نیلامی کے مکمل ریکارڈ کی چھان بین جاری
تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی اصل مالیت، تخمینہ، مقررہ قیمت، نیلامی کے اشتہارات، بولی کے عمل، کامیاب بولی دہندگان اور سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی رقم سمیت متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی حکام یہ بھی تعین کر رہے ہیں کہ نیلامی کے عمل میں شامل افسران اور اہلکاروں نے سرکاری قواعد و ضوابط اور اپنے قانونی فرائض کی کس حد تک پابندی کی۔
اینٹی کرپشن حکام اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا نیلامی کے عمل میں کسی فرد یا گروہ کو مبینہ طور پر مالی فائدہ پہنچایا گیا اور اگر ایسا ہوا تو اس میں کون کون سے افسران یا اہلکار ملوث تھے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں مزید پیش رفت کے ساتھ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں، تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین تفتیش مکمل ہونے اور متعلقہ قانونی فورم پر شواہد پیش کیے جانے کے بعد ہی ہوگا۔



