نئے بورڈ کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے، تجارت کے عمل کو آسان بنانے، غیر ٹیرف رکاوٹیں دور کرنے اور بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت
ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی تجارت کے عمل کو آسان بنانے اور سرحد پار تجارت میں حائل غیر ٹیرف رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے۔
Pakistan establishes a Trade Facilitation Board to streamline trade procedures, reduce non-tariff barriers and improve port efficiency.
وزیراعظم نے یہ منظوری جمعرات کو تجارت میں سہولت کاری سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ مجوزہ بورڈ ایسے فیصلے کرے گا جن سے تجارت کی مکمل سپلائی چین کو بہتر بنانے اور سرحد پار تجارت سے متعلق مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
تجارت کے فروغ کے لیے روڈ میپ تیار ہوگا
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ تجارت کے فروغ کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرے گا، ٹریڈ فسیلیٹیشن انڈیکس مرتب کرے گا اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرے گا۔
اس اقدام کا مقصد تجارت سے متعلق مختلف مراحل کو مزید منظم، تیز اور کاروباری برادری کے لیے سہل بنانا ہے۔
بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے کے لیے ہنگامی اقدامات
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی بندرگاہوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت کی اور اس مقصد کے لیے مختلف ورکنگ گروپس قائم کرنے کا حکم دیا۔
ورکنگ گروپس بندرگاہوں کی استعداد میں اضافے، متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں میں درپیش انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے پر کام کریں گے۔
پانچ اہم شعبوں پر ورکنگ گروپس توجہ دیں گے
اجلاس میں بتایا گیا کہ قائم کیے جانے والے ورکنگ گروپس بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے، ریگولیٹری فریم ورک پر عملدرآمد یقینی بنانے، سامان کی آمد سے قبل کلیئرنس کی سہولت کو فروغ دینے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی عالمی تجارت میں شرکت بڑھانے پر توجہ دیں گے۔
درآمد و برآمد کے طریقہ کار آسان بنانے کی ہدایت
وزیراعظم نے بندرگاہوں پر درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے ٹرانسپورٹیشن، کلیئرنس اور دیگر طریقہ کار کو مزید آسان بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے تاکہ تجارت سے متعلق اخراجات، وقت اور غیر ضروری انتظامی مراحل میں کمی لائی جاسکے۔
بندرگاہی چارجز میں کمی سے استعمال میں اضافہ
اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جاری اصلاحات کے نتیجے میں بندرگاہی چارجز میں کمی آئی ہے، جس کے باعث بندرگاہوں کے استعمال میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے بندرگاہی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشن کی سہولت میں توسیع
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ جہازوں کی آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت میں مسلسل توسیع کی جا رہی ہے۔
اس سہولت سے درآمدی سامان کی کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے اور بندرگاہوں پر غیر ضروری تاخیر کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ایس ایم ایز کو عالمی تجارت سے جوڑنے پر توجہ
حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بین الاقوامی تجارت میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کرنے کو بھی ٹریڈ فسیلیٹیشن اقدامات کا حصہ بنایا ہے۔
ایس ایم ایز کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر ہونے سے برآمدی سرگرمیوں میں وسعت اور کاروباری شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
تجارت کے لیے مؤثر اور آسان نظام کی جانب پیش رفت
ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کے قیام، بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے، کلیئرنس کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور غیر ٹیرف رکاوٹیں دور کرنے کے اقدامات کا مقصد ملک میں تجارت کے لیے زیادہ مؤثر اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے اصلاحات پر تیز رفتار عملدرآمد کی ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی تجارت، برآمدات اور علاقائی و عالمی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی اور انفراسٹرکچر سے متعلق اقدامات کو آگے بڑھا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام کی شرکت
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔



