Facebook YouTube TikTok WhatsApp
کالم

وقت کی قدر — اسلام ہمیں وقت کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟

✍️ Nazrban Balochistan 📅 21 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

وقت صرف گھڑی کی سوئیاں نہیں، انسانی زندگی کا وہ سرمایہ ہے جو گزرنے کے بعد واپس نہیں آتا

انسان کی زندگی دراصل وقت ہی کا دوسرا نام ہے۔ دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، کھوئی ہوئی چیز واپس مل سکتی ہے، حتیٰ کہ بعض مواقع بھی دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں، مگر جو لمحہ گزر جائے وہ کسی صورت واپس نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے وقت کو محض روزمرہ زندگی کا انتظامی معاملہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی ذمہ داری، اخلاقی شعور اور آخرت کی جواب دہی کے ساتھ جوڑا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھا کر انسانی زندگی کے ایک بنیادی اصول کی طرف متوجہ کیا: آیت نمبر ۱،۲

ترجمہ: زمانے کی قسم، بے شک انسان خسارے میں ہے۔

اس مختصر سورت میں وقت کے بارے میں ایک نہایت گہرا تصور موجود ہے۔ انسان مسلسل وقت کھو رہا ہے اور اس کا اصل سرمایہ اس کی عمر ہے۔ قرآن نے کامیابی کو ایمان، نیک عمل، حق کی تلقین اور صبر کی تلقین کے ساتھ وابستہ کیا۔ گویا وقت کی قدر محض زیادہ کام کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے وقت کو بامقصد زندگی میں تبدیل کرنے کا نام ہے۔

وقت: ایک امانت، نہ کہ صرف ایک وسیلہ

اسلامی تصورِ حیات میں انسان کو اپنی زندگی کا مالکِ مطلق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا بندہ اور ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں وقت بھی ایک امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اسے کہاں صرف کیا، اور اس کی جوانی کے بارے میں بھی کہ اسے کہاں گزارا (جامع الترمذی)۲۴۱۷(2417) ہ حدیث وقت کے اسلامی تصور کی بنیاد کو واضح کرتی ہے: عمر صرف گزرنے والی مدت نہیں بلکہ جوابدہی کا سرمایہ ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ قابلِ غور ہے۔ اسلام انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ ہر لمحہ صرف ظاہری مصروفیت میں گزارا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وقت کس مقصد، کس ترجیح اور کس اخلاقی سمت میں استعمال ہوا

۔ وقت اور عبادت کا تعلق

اسلام نے عبادات کے لیے بھی اوقات مقرر کیے ہیں۔ نماز کے اوقات اس حقیقت کی روزانہ یاد دہانی ہیں کہ مسلمان کی زندگی بے ترتیب نہیں بلکہ نظم و ضبط سے وابستہ ہونی چاہیے۔

قرآن مجید فرماتا ہے:یعنی بے شک نماز اہلِ ایمان پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔ (النساء: 103) ہ تصور انسان کو وقت کی پابندی، ترجیحات کے تعین اور روزمرہ زندگی میں نظم سکھاتا ہے۔ نماز کے مقررہ اوقات دراصل انسان کی مصروف زندگی میں روحانی توقف کے مقامات بھی ہیں۔

وقت ضائع کرنا صرف دیر تک سونا نہیں

ہمارے معاشرے میں وقت کے ضیاع کا تصور اکثر صرف دیر سے اٹھنے یا کام میں سستی تک محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ جدید زندگی میں وقت کا ضیاع کہیں زیادہ پیچیدہ صورتیں اختیار کر چکا ہے۔

بے مقصد سوشل میڈیا استعمال، غیر ضروری بحث، مسلسل ٹال مٹول، دوسروں کی زندگیوں سے غیر ضروری موازنہ، بے مقصد تفریح اور ترجیحات کے بغیر مصروف رہنا بھی وقت کے استعمال کے ایسے طریقے ہیں جو انسان کو بظاہر مصروف رکھتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ اسے بامقصد بنائیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے:

مصروف ہونا اور مفید ہونا ایک ہی چیز نہیں۔

ایک شخص پورا دن مصروف رہ سکتا ہے، لیکن اگر اس کی سرگرمیوں میں مقصد، ترجیح اور اخلاقی افادیت نہ ہو تو وقت کا بڑا حصہ ضائع ہو سکتا ہے۔

اسلام اور وقت کا متوازن تصور

اسلام وقت کے استعمال میں توازن سکھاتا ہے۔ عبادت کے ساتھ دنیاوی ذمہ داریاں، علم کے ساتھ عمل، کام کے ساتھ آرام، ذاتی مفاد کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری—یہ سب زندگی کے مختلف پہلو ہیں۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:یعنی جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کے گھر کو تلاش کرو اور دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کرو۔ (القصص: 77)

اس آیت سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ اسلامی زندگی دنیا سے فرار کا نام نہیں بلکہ دنیاوی ذمہ داریوں کو اخلاقی اور اخروی مقصد کے ساتھ انجام دینے کا نام ہے۔

نوجوان اور وقت کا سرمایہ

زندگی کا سب سے قیمتی مرحلہ جوانی ہے۔ اس دور میں انسان کے پاس توانائی، سیکھنے کی صلاحیت اور مستقبل تشکیل دینے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔

اسی لیے نبی کریم ﷺ کی مذکورہ حدیث میں جوانی کے بارے میں الگ سوال کا ذکر انتہائی معنی خیز ہے۔

آج کا نوجوان اگر اپنی جوانی کا بڑا حصہ غیر ضروری مصروفیات میں صرف کر دے تو اس کا نقصان صرف چند گھنٹوں کا نہیں ہوتا؛ وہ اپنی علمی، پیشہ ورانہ، اخلاقی اور شخصی تعمیر کے قیمتی مواقع بھی کھو سکتا ہے۔

تعلیم، تحقیق، ہنر، مطالعہ، صحت، خاندان، عبادت اور معاشرتی خدمت—یہ وہ میدان ہیں جہاں وقت کی درست سرمایہ کاری مستقبل کی شخصیت تشکیل دیتی ہے۔

وقت کا انتظام یا زندگی کا انتظام؟

جدید دنیا میں Time Management ایک مستقل علمی اور پیشہ ورانہ موضوع بن چکا ہے۔ منصوبہ بندی، ترجیحات، اہداف اور نظمِ اوقات پر بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔چند لمحوں کی قیمت

زندگی ہمیشہ بڑے فیصلوں سے نہیں بنتی۔ بعض اوقات چند منٹ کا مطالعہ، کسی بزرگ کی خدمت، والدین سے اچھی گفتگو، کسی ضرورت مند کی مدد، ایک مفید مضمون پڑھنا یا کسی طالب علم کی رہنمائی بھی وقت کے بہترین استعمال میں شامل ہو سکتی ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے وقت کی قدر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر لمحے کو کام سے بھر دے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے لمحوں کو بے مقصد ہونے سے بچائے۔

آرام بھی ضرورت ہے، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا بھی ضرورت ہے، جائز تفریح بھی زندگی کا حصہ ہے۔ اصل مسئلہ وقت کا وجود نہیں بلکہ اس کا بے مقصد استعمال ہے۔

آج کا لمحہ ہی ہمارے اختیار میں ہے

انسان ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتا اور مستقبل مکمل طور پر اس کے اختیار میں نہیں۔ اس کے پاس حقیقی اختیار صرف موجودہ لمحے میں موجود ہوتا ہے۔

“The Value of Time in Islam: A Comprehensive Reflection on Time, Life,Worship, Responsibility and Purposeful Living in the Light of the Quran and Sunnah.”

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑