PIDE کا Automobile Policy 2026-2031 کے لیے ٹیرف rationalization، وینڈر ڈویلپمنٹ، ٹیکنالوجی منتقلی اور کارکردگی سے مشروط مراعات پر زور
اسلام آباد، 6 ستمبر (اے پی پی): پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) نے آئندہ آٹو موبائل پالیسی 2026-2031 کے تحت ملک کے آٹو موبائل شعبے میں ساختی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے ٹیرف rationalization، وینڈر ڈویلپمنٹ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کارکردگی کی بنیاد پر مراعات کو پالیسی کا اہم حصہ بنانے کی تجویز دی ہے۔
PIDE کی جانب سے منعقدہ Stakeholders’ Consultative Roundtable میں پالیسی سازوں، صنعت سے وابستہ نمائندوں اور ماہرین تعلیم نے آٹو موبائل صنعت کو درپیش مسائل، آئندہ پالیسی کے خدوخال اور شواہد پر مبنی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا۔
نئی آٹو پالیسی میں ساختی مسائل کے حل پر توجہ ضروری
اجلاس میں PIDE کے Center for Industry, Commerce and Digital Economy (CICDE) اور Center for Governance, Markets and Regulatory Analysis (CGMRA) کی مشترکہ پالیسی دستاویز “Shifting Gears: Shaping Pakistan’s Next Automobile Policy” کی سفارشات بھی زیر بحث آئیں۔
مباحثے کا مقصد حکومت، صنعت اور اکیڈمیا کے درمیان آٹو موبائل شعبے کے مستقبل کے حوالے سے مشترکہ فہم پیدا کرنا اور مارکیٹ ڈیزائن، ٹیرف نظام، وینڈر ڈویلپمنٹ اور پالیسی مراعات سے متعلق بنیادی مسائل کی نشاندہی کرنا تھا۔
آٹو صنعت کی استعداد میں اضافہ ہوا، مگر پیداوار اور affordability مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکی
اجلاس کے آغاز پر PIDE کے پروفیسر آف اکنامکس اور ڈائریکٹر میکرو پالیسی لیب ڈاکٹر شہزادہ نعیم نواز نے شرکاء کا خیرمقدم کیا، جبکہ CGMRA کے ریسرچ اکانومسٹ محمد شاف نجیب نے اجلاس کی نظامت کی۔
PIDE کے سینئر ریسرچ اکانومسٹ اور ڈائریکٹر CICDE ڈاکٹر عثمان قادر نے آٹو موبائل شعبے پر ادارے کی تحقیق کے اہم نتائج پیش کیے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان کی آٹو موبائل صنعت نے قابل ذکر بنیاد قائم کی ہے، پیداواری صلاحیت 5 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مارکیٹ میں 15 سے زائد assemblers فعال ہیں، تاہم پیداوار، صارفین کے لیے گاڑیوں کی affordability اور وینڈر سیکٹر کی ترقی صنعت کی مجموعی توسیع کے ساتھ مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکی۔
ریٹیل سیلز ماڈل اور ٹیکنالوجی منتقلی پر زور
ڈاکٹر عثمان قادر نے کہا کہ نئی آٹو موبائل پالیسی صنعت کو retail sales model کی جانب منتقل کرنے، وینڈرز کی استعداد بڑھانے اور واضح ٹیکنالوجی ٹرانسفر تقاضوں کے ذریعے مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومتی مراعات کو قابلِ پیمائش کارکردگی کے نتائج سے منسلک کیا جانا چاہیے تاکہ پالیسی کے فوائد حقیقی صنعتی ترقی، پیداوار اور برآمدات میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں۔
صنعت کا قابلِ پیش گوئی ٹیرف نظام اور پالیسی تسلسل کا مطالبہ
صنعتی نمائندوں نے سازگار اور قابلِ پیش گوئی ٹیرف نظام، حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود پالیسی کے تسلسل اور ایسے تجارتی معاہدوں پر زور دیا جو آٹو موبائل مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دے سکیں۔
Tecno Auto Glass Limited کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سابق صدر PAAPAM عامر علاء والا نے بلند ٹیکسز، سیکیورٹی سے متعلق مشکلات اور موجودہ پالیسی فریم ورک میں موجود anti-export bias کو آٹو موبائل صنعت کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔
پالیسی سازی میں شفافیت پر بھی زور
شرکاء نے نئی آٹو موبائل پالیسی کی تیاری کے عمل میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی کے مقاصد اور مجوزہ اقدامات کو حتمی منظوری سے قبل عوامی مشاورت کے لیے سامنے لایا جانا چاہیے۔
YES Electromotive کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن میاں نے راؤنڈ ٹیبل کو آٹو موبائل شعبے سے متعلق اب تک کی سب سے مفید مشاورتی سرگرمیوں میں سے ایک قرار دیا۔
ٹیرف اہم ہے، مگر واحد مسئلہ نہیں: ڈاکٹر روبینہ اَثر
نیشنل ٹیرف کمیشن کی سابق چیئرپرسن ڈاکٹر روبینہ اَثر نے کہا کہ National Tariff Policy 2025-2030 کا مقصد معیشت کے مختلف شعبوں میں درآمدی ٹیرف کو rationalize کرنا ہے، تاہم آٹو موبائل شعبے میں اس کا اطلاق مرحلہ وار اور محتاط انداز میں ہونا چاہیے تاکہ صنعت کو تبدیلی کے عمل میں مناسب وقت مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیرف نئی آٹو موبائل پالیسی کا اہم جزو ضرور ہے، تاہم یہ واحد مسئلہ نہیں۔ پالیسی میں پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کی ترقی کی راہ میں حائل تمام ساختی رکاوٹوں کو جامع انداز میں حل کرنا ہوگا۔
تمام اسٹیک ہولڈرز نے PIDE کے اقدام کو سراہا
اجلاس میں شریک تمام اسٹیک ہولڈرز نے آٹو موبائل صنعت کے مستقبل پر حکومت، صنعت اور اکیڈمیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور بروقت، بامعنی مشاورت کا اہتمام کرنے پر PIDE کے اقدام کو سراہا۔
PIDE Calls for Structural Reforms in Pakistan’s Automobile Sector Under New Auto Policy 2026-203



