60 ہزار 456 ایکڑ رقبے پر زیتون کی کاشت، 131 اضلاع میں 76 لاکھ 37 ہزار پودے لگائے گئے؛ بلوچستان میں 31 اضلاع کے اندر 24 ہزار 620 ایکڑ پر 31 لاکھ 99 ہزار سے زائد پودے موجود
پاکستان میں زیتون کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کو فروغ دینے کے لیے ملک بھر میں 7.637 ملین یعنی 76 لاکھ 37 ہزار سے زائد زیتون کے پودے 60 ہزار 456 ایکڑ رقبے پر لگائے جا چکے ہیں، جبکہ بلوچستان زیتون کی شجرکاری میں ملک بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق زیتون کی کاشت بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، سندھ، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے مجموعی طور پر 131 اضلاع تک پھیل چکی ہے۔
بلوچستان میں زیتون کی کاشت کا سب سے بڑا رقبہ
دستاویزات کے مطابق بلوچستان میں 31 اضلاع کے اندر 24 ہزار 620 ایکڑ رقبے پر زیتون کے 31 لاکھ 99 ہزار 393 پودے لگائے گئے ہیں، جو ملک کے تمام خطوں میں سب سے زیادہ ہیں۔
پنجاب زیتون کی شجرکاری کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 31 اضلاع میں 17 ہزار ایکڑ رقبے پر 22 لاکھ 35 ہزار 962 پودے لگائے گئے ہیں۔ صوبے میں زیتون کی کاشت مختلف منصوبوں، جن میں پیڈسا، پی ایس ڈی پی، اولیو ویلی اور نجی شجرکاری شامل ہیں، کے تحت فروغ دی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں 32 اضلاع کے اندر 14 ہزار 690 ایکڑ رقبے پر 16 لاکھ 56 ہزار 499 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں۔ یہاں شجرکاری میں پیڈسا، پی ایس ڈی پی، فائیو ملین اولیو پروگرام اور نجی شعبے نے حصہ لیا ہے۔
آزاد کشمیر، سندھ اور دیگر علاقوں میں زیتون کی شجرکاری
دستاویزات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں ایک ہزار 542 ایکڑ پر 2 لاکھ 5 ہزار 929، سندھ میں 939 ایکڑ پر ایک لاکھ 29 ہزار 384، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 976 ایکڑ پر ایک لاکھ 17 ہزار 958 جبکہ گلگت بلتستان میں 690 ایکڑ رقبے پر 92 ہزار 296 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں۔
پی ایس ڈی پی کے تحت 50 لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے
2012 سے 2026 کے دوران ملک بھر میں زیتون کی شجرکاری میں مختلف منصوبوں نے حصہ لیا، جن میں سب سے بڑا حصہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا ہے۔
دستاویزات کے مطابق پی ایس ڈی پی کے تحت 37 ہزار 854 ایکڑ رقبے پر 50 لاکھ 29 ہزار 10 پودے لگائے گئے۔ دیگر منصوبوں میں اولیو ویلی کے تحت 13 لاکھ 20 ہزار 116، فائیو ملین اولیو پروگرام کے تحت 5 لاکھ 90 ہزار، پیڈسا کے تحت 5 لاکھ 80 ہزار 158، اولیوز ایکسپینشن کے تحت 80 ہزار 637 جبکہ نجی شجرکاری کے ذریعے 37 ہزار 500 پودے لگائے گئے۔
پاکستان میں 40 لاکھ ہیکٹر رقبہ زیتون کی کاشت کے لیے موزوں
دستاویزات میں پاکستان میں زیتون کی کاشت کے لیے تقریباً 40 لاکھ ہیکٹر رقبے کی صلاحیت کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں جنگلی زیتون کے لاکھوں پودے بھی موجود ہیں۔
زیتون کی تجارتی کاشت کو فروغ دینے کے لیے ملک میں شجرکاری کے ساتھ ساتھ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی سہولیات بھی قائم کی گئی ہیں۔
ملک بھر میں زیتون کا تیل نکالنے کے 51 یونٹس نصب
دستاویزات کے مطابق زیتون کی بڑھتی ہوئی پیداوار کو پراسیس کرنے کے لیے ملک بھر میں زیتون کا تیل نکالنے کے 51 یونٹس نصب کیے گئے ہیں۔
ان میں بلوچستان میں 23، خیبر پختونخوا میں 16، پنجاب میں 9، اسلام آباد میں 2 اور آزاد جموں و کشمیر میں ایک آئل ایکسٹریکشن یونٹ شامل ہے۔
زیتون کی صنعت کے لیے لیبارٹریاں اور دیگر سہولیات
زیتون کے شعبے کی ترقی کے لیے ملک بھر میں تین ویلیو ایڈیشن لیبارٹریاں، چھ فروٹ پروسیسنگ یونٹس، پانچ موسمیاتی اسٹیشنز اور پانچ نرسری ٹنلز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ اسلام آباد، چکوال، ترناب اور کوئٹہ میں چار نیشنل ریفرنس لیبارٹریاں بھی موجود ہیں، جو زیتون کے شعبے سے متعلق معاون سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان میں زیتون کی ترقی کا پروگرام اب محض شجرکاری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں تیل نکالنے، پروسیسنگ، لیبارٹریوں، نرسریوں اور دیگر معاون سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے، تاکہ زیتون کی تجارتی کاشت اور اس سے متعلق صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
Pakistan Olive Cultivation: Balochistan Leads with 3.19 Million Olive Plants as Nationwide Plantation Reaches 7.63 Million Across 131 Districts.



