Facebook YouTube TikTok WhatsApp
پاکستان

پاکستان نے 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ جاری کردیا، عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال : محمد اورنگزیب

✍️ Nazrban Balochistan 📅 03 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

ریکارڈ 3 ارب ڈالر کی دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ فروخت، 6 ارب ڈالر کے قریب عالمی طلب، حکومت کا قرض مینجمنٹ اور معاشی اصلاحات جاری رکھنے کا عزم

3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ، عالمی مارکیٹ سے مضبوط ردعمل

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے کامیاب اجرا کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لین دین عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی معیشت اور مستقبل کی سمت پر بحال ہونے والے اعتماد کا عکاس ہے۔

Pakistan’s record $3 billion Eurobond issuance signals renewed international investor confidence and strengthens the country’s medium-term debt management strategy.

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے حکومت پاکستان کے زیر اہتمام ’ہائی لیول ڈائیلاگز آن ٹیکسیشن فار فسکل سسٹین ایبلٹی‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی موقع پر جاری کیا جانے والا سب سے بڑا بانڈ ہے اور اس سے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملنے والی مثبت توثیق بھی ظاہر ہوتی ہے۔

عالمی طلب 6 ارب ڈالر کے قریب رہی

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے اپریل 2025 سے اب تک کریڈٹ ریٹنگ میں تین اپ گریڈ حاصل کیے ہیں، جبکہ یورو بانڈ کے لیے موصول ہونے والے آرڈر بک کی مالیت جاری کردہ رقم سے تقریباً دوگنا رہی۔

3 ارب ڈالر کی مجموعی یورو بانڈ جاری کرنے کے مقابلے میں عالمی سرمایہ کاروں کی طلب تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی اہم علامت قرار دی جا رہی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا سمیت مختلف خطوں سے سرمایہ کاروں کی متنوع شرکت نے پاکستان کی معیشت پر عالمی سرمایہ کاری کے اعتماد کو ظاہر کیا ہے۔

5.5 اور 10 سالہ مدت کے بانڈز جاری

پاکستان نے اس لین دین کے تحت 1.75 ارب ڈالر مالیت کا 5.5 سالہ یورو بانڈ 7.50 فیصد کوپن ریٹ کے ساتھ جاری کیا، جبکہ 1.25 ارب ڈالر مالیت کا 10 سالہ بانڈ 7.90 فیصد کوپن ریٹ پر جاری کیا گیا۔

محمد اورنگزیب نے دونوں بانڈز کی قیمتوں کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے خاص طور پر طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے عالمی مارکیٹ کی دلچسپی کو اہم قرار دیا۔

یورو بانڈ محض ہنگامی قرض گیری نہیں

وفاقی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ یورو بانڈ کا اجرا کوئی عارضی یا ہنگامی قرض گیری نہیں بلکہ حکومت کی وسیع تر قرض مینجمنٹ حکمت عملی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونی فنانسنگ میں بھی وہی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے جو مقامی سطح پر اپنائی گئی ہے، جس کا مقصد قرضوں کے رول اوور کے خطرات کم کرنا، قرض کی مدت میں اضافہ اور مؤثر لائیبلٹی مینجمنٹ آپریشنز کرنا ہے۔

انہوں نے اسے تین سالہ درمیانی مدت کی گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔

سکوک اور پانڈا بانڈ سمیت مزید ذرائع زیر غور

وزیر خزانہ کے مطابق یورو بانڈ اس حکمت عملی کا پہلا اہم جزو ہے، جبکہ حکومت سکوک، روپے میں ڈینومینیٹڈ مگر ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈز اور پانڈا بانڈز جیسے دیگر ذرائع پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

پاکستان پہلے ہی اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرچکا ہے، جبکہ مجموعی حکمت عملی کا مقصد مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی ادائیگی، قرض کی مدت میں اضافہ اور ری فنانسنگ و رول اوور کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دو بڑے ساختی خساروں سے نمٹنے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے، جو چند برس قبل مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 12.5 فیصد تک پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ جون کے اختتام تک کم ہو کر جی ڈی پی کے تقریباً 2.6 فیصد رہ گیا، جو 22 سال کی کم ترین سطح ہے۔

پاکستان مسلسل تین سال سے پرائمری سرپلس بھی حاصل کر رہا ہے، جسے وزیر خزانہ نے مالیاتی نظم و ضبط میں پائیداری کی اہم علامت قرار دیا۔

’اسی راستے پر قائم رہنا ہوگا‘

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے موجودہ اصلاحاتی راستے پر مستقل مزاجی سے چلنا ہوگا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کو ماضی کے بوم اینڈ بسٹ معاشی چکروں میں واپس جانے سے روکنے کے لیے ساختی اصلاحات جاری رکھے گی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس مرتبہ صورتحال مختلف ہے کیونکہ حکومت اس بات پر واضح ہے کہ ساختی اصلاحات کو ہر صورت آگے بڑھایا جائے گا۔

ایف بی آر اصلاحات سے ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافہ

وفاقی وزیر نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی تبدیلی اور اصلاحات نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی سفر میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافہ ہوا اور گزشتہ مالی سال کے اختتام پر یہ تقریباً 13 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

اسی عرصے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بھی 8.8 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 10.3 فیصد ہوگیا۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ٹیکس نظام میں تبدیلی

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں مزید پیش رفت کے لیے افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی تینوں شعبوں میں مسلسل اصلاحات ضروری ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی اس تبدیلی کی بنیادی محرک بننے جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ اب صرف منصوبہ بندی کے مرحلے تک محدود نہیں بلکہ عملی نفاذ میں داخل ہوچکی ہے اور اس کے نتیجے میں اضافی سیلز ٹیکس ریونیو حاصل ہو رہا ہے۔

ڈیجیٹل انوائسنگ کا عمل بھی جاری ہے، جس کے تحت رجسٹریشن کے اعتبار سے قومی سیلز ٹرن اوور کا تقریباً 75 سے 80 فیصد حصہ کور کیا جا رہا ہے۔

ٹیکس نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور

وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ٹیکس انتظامیہ میں مصنوعی ذہانت، مربوط ڈیٹا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کو مؤثر بنانے کے لیے بعض قانونی اور قانون سازی سے متعلق تبدیلیاں بھی درکار ہوسکتی ہیں۔

ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 13 فیصد تک لے جانے کا ہدف

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالیاتی پائیداری مضبوط بنانے کے لیے موجودہ 10.3 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو وقت کے ساتھ بڑھا کر 13 فیصد کے قریب لانا اہم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط مالیاتی بنیاد، بہتر ٹیکس وصولی اور مستقل اصلاحات پاکستان کو پائیدار معاشی استحکام کی طرف لے جانے کے لیے ضروری ہیں۔

اصلاحاتی ایجنڈے کی سیاسی قیادت کی مکمل حمایت

وزیر خزانہ نے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کو وزیراعظم، کابینہ اور سیاسی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سمت درست ہے، تاہم مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، اور اس سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کے لیے تعاون کو بھی سراہا۔

پاکستان کی 3 ارب ڈالر کی ریکارڈ یورو بانڈ فروخت، عالمی مارکیٹ میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی طلب، مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی اور ٹیکس اصلاحات میں پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت معاشی استحکام کو قرض مینجمنٹ، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات کے ذریعے مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑