Facebook YouTube TikTok WhatsApp
پاکستان

پاکستان کا شارک کے تحفظ کے لیے 10 سالہ قومی منصوبہ

✍️ Nazrban Balochistan 📅 08 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

 

اسلام آباد، 8 ستمبر : وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے شارک کے تحفظ اور ان کے بہتر انتظام کے لیے پاکستان کے پہلے 10 سالہ قومی منصوبے (2025 تا 2035) کا اعلان کردیا۔ منصوبے کا مقصد شارک کی کم ہوتی آبادی کو بحال کرنا اور ماہی گیری کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانا ہے۔

 

تین مراحل میں عملدرآمد

 

وفاقی وزیر کے مطابق منصوبہ تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ اس پر عملدرآمد کرے گا جبکہ متعلقہ اداروں پر مشتمل قومی مشاورتی کمیٹی نگرانی کرے گی۔ منصوبے کے پہلے پانچ سال کے لیے تقریباً 38 لاکھ سے 50 لاکھ ڈالر درکار ہوں گے، جن کا انتظام سرکاری بجٹ، بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور نجی شعبے کے تعاون سے کیا جائے گا۔

 

شارک کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات

 

منصوبے کے تحت شارک کی آبادی اور ذخائر کی نگرانی، مچھلی اترنے کے مقامات کی جانچ، کشتیوں کی نگرانی کے نظام کی تنصیب اور ماہی گیری کے دوران حادثاتی طور پر پکڑی جانے والی شارک کی ہلاکتیں کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

 

شارک کے غیر قانونی پنکھ کاٹنے کی روک تھام، اہم سمندری علاقوں کا تحفظ، تحقیق اور ڈیٹا کے نظام میں بہتری اور ماہی گیری کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ شارک کے محفوظ علاقے قائم کرنے، مینگرووز بحال کرنے اور ماہی گیر برادریوں کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

 

سالانہ اور تین سالہ جائزہ

 

جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ منصوبے کی پیش رفت کا سالانہ جائزہ لیا جائے گا جبکہ ہر تین سال بعد جامع جائزہ ہوگا۔ منصوبے میں پاکستانی سمندری حدود میں پائی جانے والی شارک، کرن، اسکیٹ اور چیمرائز سمیت کارٹیلیجینس مچھلیوں کے تحفظ کو شامل کیا گیا ہے، تاہم ان شارک اقسام پر خصوصی توجہ دی جائے گی جو زیادہ شکار کی جاتی ہیں یا حادثاتی طور پر بڑی تعداد میں پکڑی جاتی ہیں۔

 

عالمی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ منصوبہ

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی منصوبہ پاکستان کے سمندری ماحول، ادارہ جاتی صلاحیت اور ساحلی آبادیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی عالمی ہدایات سے ہم آہنگ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ بہتر ڈیٹا، مؤثر نگرانی اور قوانین پر عملدرآمد سے نہ صرف شارک بلکہ دیگر سمندری انواع کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔ سمندری وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال حکومت کی ترجیح ہے اور کم تعداد میں رہ جانے والی یا ممنوعہ شکار شارک اقسام کا تحفظ ناگزیر ہے۔

 

Pakistan Launches First 10-Year National Shark Conservation Plan to Protect Marine Biodiversity and Promote Sustainable Fisherie

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑