Facebook YouTube TikTok WhatsApp
پاکستان

ڈی جی آئی ایس پی آر: 2026 میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 2,084 دہشت گرد ہلاک

✍️ Nazrban Balochistan 📅 31 Jul 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2026 میں اب تک ملک بھر میں 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 2,084 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ انہوں نے قانون کی بالادستی، ریاست سے وفاداری اور قومی یکجہتی پر زور دیا۔

بلوچستان میں سب سے زیادہ آپریشنز، 819 شہادتیں

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ 2026 کے دوران اب تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے، جن میں پاک فوج، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان آپریشنز میں 31 ہزار 80 بلوچستان، 7 ہزار 177 خیبر پختونخوا جبکہ 2 ہزار 91 ملک کے دیگر حصوں میں کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا سب سے بڑا مرکز رہا۔

3,145 دہشت گردی کے واقعات

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2026 میں اب تک ملک بھر میں 3 ہزار 145 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبر پختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان جبکہ 26 واقعات ملک کے دیگر حصوں میں پیش آئے۔

انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جو اوسطاً روزانہ 10 دہشت گرد بنتے ہیں۔ ان کے بقول یہ اب تک کی بلند ترین شرح ہے، جبکہ ملک بھر میں روزانہ اوسطاً 194 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔

819 شہادتیں، 28 خودکش حملے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں 303 فوجی جوان، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول پولیس کے اہلکار، جبکہ 322 شہری شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران 28 خودکش حملے بھی ہوئے، جن میں زیادہ تر خودکش حملہ آور افغان شہری تھے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اب دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی شرح سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان سے زیادہ ہے۔ انہوں نے دہشت گرد تنظیموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کی عملداری کو تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیں، بصورت دیگر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔

قانون سب کے لیے برابر

بلوچستان کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک “ہارڈ اسٹیٹ” میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہوتے ہیں اور ہر شہری قانون کے سامنے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط ریاست کی بنیاد امن، استحکام، قانون کی حکمرانی اور ریاستی رٹ پر ہوتی ہے۔

حقوق کے ساتھ فرائض بھی ضروری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہریوں کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 5، آرٹیکل 8 سے پہلے آتا ہے، جو ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی پابندی کو ہر شہری کا بنیادی فرض قرار دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہماری پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہونا ہے، اور ریاست سے وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔”

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں