Facebook YouTube TikTok WhatsApp
بلوچستان

گوادر پورٹ پر دوسری تجارتی بنکرنگ کامیاب، بلیو اکانومی کے فروغ کی جانب اہم سنگ میل

✍️ Nazrban Balochistan 📅 31 Jul 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

گوادر پورٹ پر دوسری کمرشل بنکرنگ آپریشن کی کامیاب تکمیل کے دوران ایل این جی جہاز کو 1,150 میٹرک ٹن میرین فیول فراہم کیا گیا، جس سے گوادر کے علاقائی میری ٹائم ہب بننے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی۔

گوادر: گوادر پورٹ نے Second Commercial Bunkering Operation کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے پاکستان کی Blue Economy کے فروغ اور گوادر کو علاقائی بحری مرکز بنانے کی جانب ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کے مطابق آپریشن کے دوران ایل این جی بردار جہاز ایم وی ایکسیلیریٹ شیننڈوا کو تقریباً ایک ہزار 150 میٹرک ٹن لو سلفر فیول آئل (LSFO) فراہم کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے بنکرنگ بارج ایم ٹی میرین اِستا کراچی سے گوادر پہنچی اور جہاز کو بحفاظت ایندھن منتقل کیا۔

ترجمان کے مطابق ایک روزہ بنکرنگ آپریشن بین الاقوامی حفاظتی، ماحولیاتی اور آپریشنل معیارات کے مطابق مکمل کیا گیا، جبکہ اس دوران گوادر پورٹ اتھارٹی، پاکستان کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں نے قانونی، ریگولیٹری، حفاظتی اور ماحولیاتی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے کامیاب آپریشن کو گوادر پورٹ کے لیے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ گوادر بین الاقوامی بحری تجارت اور میری ٹائم سروسز کے ایک اہم مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے تحت گوادر پورٹ پر جدید سہولیات کی فراہمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی شپنگ کمپنیوں کو معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کہا کہ دوسری تجارتی بنکرنگ کی کامیاب تکمیل گوادر پورٹ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت، آپریشنل استعداد اور عالمی شپنگ کمپنیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ اب جہازوں کو قابلِ اعتماد میرین فیول سروسز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ بنکرنگ سرگرمیوں میں اضافے سے مستقبل میں مزید بین الاقوامی جہازوں کی آمد، نئی سرمایہ کاری، کاروباری مواقع اور روزگار کے امکانات پیدا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے گوادر پورٹ کو علاقائی بنکرنگ اور میری ٹائم لاجسٹکس ہب بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی معیار کی بندرگاہی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں