سینیٹر دنیش کمار، رکن بلوچستان اسمبلی روی کمار اور سنجے کمار پنجوانی کی قیادت میں ریلی، خواتین اور نوجوانوں سمیت بڑی تعداد میں شرکت
کوئٹہ
یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر کوئٹہ میں اقلیتی برادری کی جانب سے پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بڑی کار ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں مردوں کے ساتھ خواتین اور نوجوانوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ریلی میں قومی پرچموں کی بہار
ریلی کی قیادت سینیٹر دنیش کمار، رکن بلوچستان اسمبلی روی کمار اور سنجے کمار پنجوانی نے کی۔ ریلی کا آغاز BUITEMS کے قریب سے ہوا جو ایئرپورٹ روڈ سے ہوتی ہوئی بی اے مال کوئٹہ کے قریب اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاکستان و پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے۔
پاکستان کے دفاع کیلئے متحد ہیں
شرکاء کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادری ملک کے دفاع اور سلامتی کے معاملے میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ مشکل وقت میں اقلیتی برادری نے ہمیشہ وطن سے وفاداری کا عملی مظاہرہ کیا اور آئندہ بھی پاکستان کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
شرکاء نے کہا کہ پاکستان ان کے لیے سب سے مقدم ہے اور وطن کی سلامتی و خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق بلوچستان میں اقلیتی برادری کو اپنی مذہبی عبادات اور رسومات آزادی کے ساتھ ادا کرنے کے مواقع حاصل ہیں اور وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
پاک افواج اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین
ریلی کے شرکاء نے افواجِ پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے خدمات کو بھی سراہا۔
شہداء اور غازیوں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش
اقلیتی برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ یومِ دفاع محض ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ دن ان شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
ترقی، امن اور استحکام کیلئے کردار جاری رکھنے کا عزم
رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر کی اقلیتی برادری پاکستان کی ترقی، امن، استحکام اور سلامتی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی اور دفاعِ وطن کے معاملے میں پوری قوم کے ساتھ متحد کھڑی رہے گی۔
Defence Day 2026: Balochistan’s minority community holds a large car rally in Quetta to honor martyrs and express solidarity with Pakistan Armed Forces.*



