استا محمد کے عبدالجبار کی داستانِ صبر و امید کا اختتام، کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق عارضی تعیناتی کے احکامات جاری کردیئے۔
عبدالجبار کے 29 سالہ انتظار کا اختتام
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی میرٹ، شفافیت اور عوامی داد رسی پر مبنی پالیسی کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں، جہاں استا محمد کے رہائشی عبدالجبار کے 29 سالہ طویل انتظار کا اختتام ہوگیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور ایس ایم بی آر قمبر دشتی کی ہدایات کی روشنی میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق عبدالجبار کی عارضی تعیناتی کے احکامات جاری کردیئے۔
عبدالجبار نے 1997ء میں پٹواری کا کورس مکمل کیا تھا۔ دورانِ کورس ان کے والد کا انتقال ہوگیا، تاہم تدریسی عمل اور امتحانات کی مجبوری کے باعث وہ اپنے والد کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے۔ والد کی جدائی کے صدمے کے ساتھ انہوں نے پٹواری کی ڈگری حاصل کی، مگر سرکاری ملازمت کا خواب پورا ہونے میں 29 سال لگ گئے۔
مشکلات کے باوجود امید کا دامن نہ چھوڑا
اس دوران عبدالجبار نے ملازمت کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں، مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگائے اور طویل انتظار و مشکلات کا سامنا کیا، تاہم انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔
گزشتہ روز عبدالجبار ضلع استا محمد سے کمشنر نصیرآباد ڈویژن کے دفتر پہنچے۔ وہ عارضی بنیادوں پر ہونے والے انٹرویوز کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے آئے تھے۔
ان کی مالی مشکلات کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس استا محمد سے ڈویژنل ہیڈکوارٹر تک سفر کے لیے موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے بھی پیسے نہیں تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی کی سونے کی بالی فروخت کرکے سفر کا خرچ پورا کیا۔
دفتر پہنچے تو فیصلہ پہلے ہی میرٹ پر ہوچکا تھا
کمشنر آفس پہنچنے پر عبدالجبار کو معلوم ہوا کہ جس مقصد کے لیے وہ آئے ہیں، اس حوالے سے فیصلہ پہلے ہی میرٹ کی بنیاد پر کیا جاچکا ہے۔
کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے متعلقہ حکام کی ہدایات کی روشنی میں ان کی عارضی تعیناتی کے احکامات جاری کر رکھے تھے۔
کمشنر آفس میں جب عبدالجبار کو ان کی تعیناتی کے احکامات پیش کیے گئے تو 29 سالہ انتظار کی اذیت خوشی کے آنسوؤں میں بدل گئی۔ عبدالجبار نے جذباتی انداز میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس لمحے کو اپنی زندگی کا یادگار ترین لمحہ قرار دیا۔
Merit-based decisions can restore public trust by delivering long-awaited justice to deserving citizens.
میرٹ اور شفافیت کی عملی مثال
عبدالجبار کی داستان اس امر کی عکاس ہے کہ شفاف اور میرٹ پر مبنی فیصلے نہ صرف اہل امیدواروں کو ان کا حق دلاتے ہیں بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط کرتے ہیں۔
کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی جانب سے میرٹ اور قواعد کے مطابق بروقت اقدام ایک ایسے شہری کی داد رسی کا ذریعہ بنا جو تقریباً تین دہائیوں سے اپنے حق کا منتظر تھا۔
عبدالجبار کے لیے یہ محض ملازمت کا حکم نامہ نہیں بلکہ 29 سال کے صبر، جدوجہد اور امید کا ثمر ہے، جبکہ یہ اقدام حکومت بلوچستان کی میرٹ، شفافیت اور عوامی مسائل کے فوری ازالے کی پالیسی کی عملی مثال بھی ہے۔



