یوم دفاع و شہداء آج قومی جذبے، اتحاد اور وطن کے دفاع کے عزم کی تجدید کے طور پر منایا جا رہا ہے
اسلام آباد: پاکستان بھر میں آج 6 ستمبر یوم دفاع و شہداء قومی جذبے اور ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ دن کا آغاز مساجد میں ملکی سلامتی، شہداء کے درجات کی بلندی اور پاکستان کے امن و استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا۔
6 ستمبر 1965، تاریخ کا یادگار باب
6 ستمبر 1965 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جب مسلح افواج اور قوم نے ملک کے دفاع کے لیے اتحاد، عزم اور بہادری کی مثال قائم کی۔ اس دن کی یاد ہر سال قوم کو ان قربانیوں کی یاد دلاتی ہے جو وطن کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے لیے دی گئیں۔
شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ
یوم دفاع و شہداء کے موقع پر ملک بھر میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ قوم ان خاندانوں کو بھی سلام پیش کرتی ہے جن کے پیاروں نے وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔
شہداء کی قربانیاں صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے حب الوطنی، حوصلے اور ذمہ داری کا پیغام ہیں۔
قوم اور مسلح افواج کا یکجہتی کا عزم
6 ستمبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومی اتحاد اور اجتماعی عزم کسی بھی مشکل کا مقابلہ کرنے کی بڑی قوت ہیں۔ یوم دفاع کے موقع پر قوم ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور امن کے تحفظ کے لیے متحد رہے گی۔
مضبوط پاکستان کے لیے نیا عزم
یوم دفاع صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا موقع بھی ہے۔ مضبوط دفاع کے ساتھ معاشی استحکام، تعلیم، ترقی، قومی یکجہتی اور امن ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔
آج پوری قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کی تجدید کر رہی ہے کہ پاکستان کو ایک مضبوط، پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
6 September Defence Day: Pakistan commemorates the courage and sacrifices of its martyrs and armed forces, renewing the national resolve for unity, peace, sovereignty and security.



