گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ فن کا سفر
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی 60 سالہ خاتون مرکی نے سوئی دھاگے کے ذریعے ایسے منفرد فن پارے تخلیق کیے ہیں جو دیکھنے والوں کو بظاہر مصوری کے شاہکار محسوس ہوتے ہیں۔ مرکی نے کسی آرٹ اسکول سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، تاہم شوق، محنت اور مسلسل لگن کے ذریعے اپنے فن میں مہارت حاصل کی۔
پشتون اور بلوچ ثقافت کی خوبصورت عکاسی
مرکی زندگی بھر گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ اپنے فن سے وابستہ رہیں، لیکن طویل عرصے تک ان کی صلاحیتیں گھر کی چار دیواری تک محدود رہیں۔
اب ان کے بیٹے محمد آصف کاکڑ نے ان کے فن کو عوام کے سامنے لانے کے لیے کوئٹہ کی پشتو اکیڈمی میں ان کے فن پاروں کی نمائش کا اہتمام کیا ہے۔
مرکی کے تخلیق کردہ فن پاروں میں پشتون اور بلوچ ثقافت، دیہی زندگی، قدرتی مناظر اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سوئی اور دھاگے سے تیار کیے گئے یہ فن پارے اپنی باریک بینی اور خوبصورتی کے باعث دیکھنے والوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
خواتین کے پوشیدہ فن کو اجاگر کرنے کی ضرورت
مرکی کی کہانی اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ غیر معمولی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے رسمی تعلیم ہی ضروری نہیں، بلکہ شوق، محنت اور تخلیقی سوچ بھی انسان کو نمایاں مقام دلا سکتی ہے۔
ان کے فن پاروں کی نمائش نہ صرف ان کی ذاتی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ بلوچستان کی ثقافت، روایتی ہنر اور خواتین کے پوشیدہ تخلیقی جوہر کو اجاگر کرنے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔
مرکی کا فن اس پیغام کو تقویت دیتا ہے کہ گھروں میں موجود خواتین کی صلاحیتوں کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی شناخت بنا سکتی ہیں بلکہ اپنے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
Quetta’s 60-Year-Old Murki Turns Needle and Thread into Stunning Masterpieces!



