Facebook YouTube TikTok WhatsApp
بلوچستان

بلوچستان کی پہلی خاتون بینڈ ماسٹر، رضوانہ کاکڑ نے خواب کو حقیقت بنا دیا

✍️ Nazrban Balochistan 📅 31 Aug 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

پانچویں جماعت میں استاد کو بینڈ لیڈ کرتے دیکھ کر خواب دیکھا، دو سال میں فن سیکھا اور آج جناح اسکول کے گرلز بینڈ کی قیادت کر رہی ہیں

ایک خواب جو پانچویں جماعت سے شروع ہوا

کوئٹہ: کچھ خواب بہت خاموشی سے دل میں جگہ بناتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ وہی خواب انسان کی پہچان بن جاتے ہیں۔ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے مسلم باغ سے تعلق رکھنے والی رضوانہ شمس الرحمن کاکڑ کی کہانی بھی ایسے ہی ایک خواب سے شروع ہوئی، جب انہوں نے پانچویں جماعت میں اپنے اسکول کے استاد کو بینڈ کی قیادت کرتے دیکھا اور دل میں سوچا کہ ایک دن وہ بھی بینڈ ماسٹر بنیں گی۔

رضوانہ کاکڑ نے اپنے استاد کی رہنمائی میں بینڈ سیکھنا شروع کیا اور صرف دو سال میں اس فن کے مختلف پہلوؤں پر عبور حاصل کرلیا۔ آج وہ بلوچستان کی پہلی اور واحد خاتون بینڈ ماسٹر کے طور پر جناح اسکول کے گرلز بینڈ کی قیادت کر رہی ہیں۔

ان کا سفر اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ اگر شوق کو موقع اور حوصلہ مل جائے تو ایک عام سا خواب بھی غیر معمولی کامیابی میں بدل سکتا ہے۔

15 سے 18 طالبات پر مشتمل منفرد گرلز بینڈ

رضوانہ کاکڑ کی زیر قیادت اسکول کا گرلز بینڈ 15 سے 18 طالبات پر مشتمل ہے۔ بینڈ میں ڈرم بجانے والی 6 طالبات، 3 باس پلیئرز، ایک بینڈ میجر اور 6 پائپرز شامل ہیں۔

رضوانہ کاکڑ خود بینڈ کی تمام 9 دھنوں سے واقف ہیں اور ضرورت کے مطابق مختلف دھنیں بجانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے ذخیرے میں قومی ترانہ، اے راہِ حق، جیوے، زخمی مارچ، سلو مارچ، اسٹار مارچ اور بی بی شیرینی سمیت دیگر دھنیں شامل ہیں۔

بینڈ کی ایک خاص پیشکش ایسا منفرد سلام بھی ہے جس میں موسیقی کے بغیر صرف ڈرمز کے ذریعے پرفارمنس دی جاتی ہے، جسے ڈرم سولو کہا جاتا ہے۔

خاندان نے مختلف راستہ چننے کا حوصلہ دیا

رضوانہ کاکڑ کے لیے یہ راستہ شروع میں اتنا آسان نہیں تھا۔ ان کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر یا انجینئر بنیں، لیکن جب انہوں نے اپنی بیٹی کو بینڈ کے میدان میں کچھ مختلف کرتے دیکھا تو نہ صرف اس کے شوق کو سمجھا بلکہ بھرپور حمایت بھی کی۔

رضوانہ اپنی کامیابی کا سب سے بڑا کریڈٹ اپنے خاندان کو دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر گھر والوں نے انہیں اجازت اور مکمل تعاون نہ دیا ہوتا تو شاید وہ اس مقام تک نہ پہنچ پاتیں۔

وزیراعلیٰ کی مداخلت سے ملا تقرری کا حکم

رضوانہ کی محنت کو سرکاری سطح پر بھی اس وقت ایک اہم موڑ ملا جب ایک اسکول تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی موجود تھے۔

رضوانہ نے اس موقع پر انہیں اپنی تقرری سے متعلق ایک تحریری درخواست پیش کی۔ ان کی استاد مس سامینہ رزاق نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ رضوانہ بینڈ ماسٹر کی نشست کے لیے انٹرویو اور ٹیسٹ پہلے ہی پاس کرچکی ہیں، تاہم ان کی تقرری کا حکم تاخیر کا شکار ہے۔

رضوانہ کے مطابق وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے معاملے کا فوری نوٹس لیا اور موقع پر ہی ان کی تقرری کا اعلان کردیا۔ اگلے ہی روز انہیں باقاعدہ تقرری کا حکم بھی مل گیا۔

اب خواب صرف اپنا نہیں، دوسری لڑکیوں کا بھی ہے

آج رضوانہ اسکول کی تقریبات، بوائز اسکاؤٹس کے پروگرامز، یومِ آزادی، یومِ پاکستان اور وزیراعلیٰ کی مختلف تقریبات میں اپنے بینڈ کے ساتھ پرفارم کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ بچیوں کی پرفارمنس کو بہت پسند کرتے ہیں اور اکثر یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ طالبات اتنی کم عمر میں اتنی خوبصورتی سے بینڈ کیسے چلا لیتی ہیں۔

رضوانہ مستقبل میں بھی اس بینڈ کو جاری رکھنے اور اسے مزید بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں، جبکہ ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام بھی ان کی اپنی کہانی جیسا سادہ ہے: اپنے خواب ادھورے نہ چھوڑیں اور وہی کام کریں جسے دل سے کرنا چاہتے ہیں۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں