چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت اجلاس، نوجوانوں کو جدید فنی تربیت، روزگار، کاروباری مواقع اور آسان قرضوں تک رسائی فراہم کرنے کے منصوبوں پر بریفنگ
رائز پروگرام کے منصوبوں پر اہم اجلاس
کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت رائز (RISE) پروگرام کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پروگرام کے مختلف منصوبوں، اب تک کی پیش رفت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
Balochistan’s RISE program aims to expand youth employment, skills training, entrepreneurship and climate-resilient economic opportunities across six districts.
نوجوانوں کو روزگار اور ہنر کی فراہمی حکومت کی ترجیح
چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں جدید فنی و پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کرنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کی فلاح و بہبود، معاشی خودمختاری اور معیارِ زندگی میں بہتری ہے، اسی مقصد کے تحت ایسے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جو نوجوانوں کو روزگار، ہنر اور کاروبار کے مواقع فراہم کر سکیں۔
چھ اضلاع رائز پروگرام میں شامل
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان کے رائز پروگرام کے تحت چھ اضلاع پنجگور، خاران، واشک، گوادر، آواران اور کیچ کو شامل کیا گیا ہے۔
پروگرام کے تحت 57,464 مائیکرو انٹرپرائزز قائم کرنے، 4,320 نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت دے کر روزگار سے منسلک کرنے، 1,620 موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر تعمیر کرنے اور 180 مقامی تنظیموں کو مضبوط بنانے کا منصوبہ ہے۔
12 ہزار نوجوانوں اور کاروباری افراد کو مالی سہولت
بریفنگ میں بتایا گیا کہ رائز پروگرام کے تحت 900 نوجوانوں کو سوشل چینج ایجنٹس کے طور پر تربیت دی جائے گی، جبکہ 12,000 نوجوانوں اور کاروباری افراد کو مالی خدمات اور آسان قرضوں تک رسائی فراہم کی جائے گی۔
اس کے علاوہ مضبوط بنائے جانے والے 180 چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں کے ذریعے مزید 1,800 گھرانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
16 ہزار 500 گھرانوں کو موسمیاتی خطرات سے تحفظ
حکام کے مطابق پروگرام کے مختلف اقدامات سے تقریباً 16,500 گھرانوں کے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
رائز پروگرام میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے انفراسٹرکچر اور معاشی سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جو مستقبل کے موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوں۔
خاران، پنجگور اور واشک میں مختلف شعبے شامل
پروگرام کے تحت خاران، پنجگور اور واشک کے اضلاع میں کھجور، کاٹن، گندم، زیرہ، لائیو اسٹاک، ہینڈ میڈ بلوچی ایمبرائیڈری اور فوڈ پروسیسنگ سمیت کئی اہم سیکٹرز اور ٹریڈز کو شامل کیا گیا ہے۔
ان شعبوں میں نوجوانوں کو جدید فنی مہارتیں، کاروباری مواقع اور مالی معاونت فراہم کرکے مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے فلائٹ کریو تربیت
اجلاس میں بتایا گیا کہ ساؤتھ ائیر کے تعاون سے بلوچستان کے نوجوانوں کو فلائٹ کریو کی تربیت فراہم کی جائے گی۔
اس تربیتی پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ایوی ایشن کے شعبے میں کیریئر بنانے، ایئرلائنز میں ملازمت کے مواقع حاصل کرنے اور جدید فضائی سفری نظام سے متعلق پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
ٹیک ویلی کے ساتھ بھی کام کا آغاز ہوگا
رائز پروگرام کے تحت ٹیک ویلی کے ساتھ بھی کام کا آغاز جلد کیا جائے گا، جس کے ذریعے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
نوجوانوں کی معاشی خودمختاری پر توجہ
رائز پروگرام میں فنی و پیشہ ورانہ تربیت، کاروباری مواقع، مالی معاونت اور روزگار کے مختلف شعبوں سے نوجوانوں کو منسلک کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
صوبائی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں روزگار اور کاروبار کے پائیدار مواقع فراہم کرنا اور بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں اہم حکام کی شرکت
اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز خالد سرپرہ، سی ای او بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام ڈاکٹر طاہر رشید اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔



