Facebook YouTube TikTok WhatsApp
بلوچستان

اے ایس آئی ماریہ بلوچ رخشان ڈویژن کی پہلی خاتون پولیس سب انسپکٹر

✍️ Nazrban Balochistan 📅 10 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

چاغی کی ماریہ بلوچ رخشان ڈویژن کی پہلی خاتون پولیس سب انسپکٹر ہیں، جنہوں نے تعلیم اور خاندانی مشکلات کے باوجود پولیس فورس میں اپنی شناخت بنائی۔

تعلیم سے پولیس فورس تک کا سفر

اسسٹنٹ سب انسپکٹر ماریہ بلوچ کا تعلق ضلع چاغی کے علاقے دالبندین سے محمد حسنی برادری سے ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ سے ڈاکٹر آف فارمیسی (ڈی فارمیسی) کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا۔

ماریہ بلوچ نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی اور رخشان ڈویژن کی پہلی خاتون پولیس سب انسپکٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

Maria Baloch represents growing opportunities for women in Balochistan’s police force.

بھائی کا خواب ماریہ بلوچ کے لیے حوصلہ بنا

ماریہ بلوچ کے مطابق پولیس فورس میں شمولیت کے پیچھے ان کے مرحوم 19 سالہ بھائی کا خواب بھی ایک اہم وجہ تھا۔ ان کے بھائی آرمی میں کیپٹن بن کر ملک کی خدمت کرنا چاہتے تھے، تاہم تھیلیسیمیا کے باعث انتقال کرگئے۔

ماریہ بلوچ کا کہنا ہے کہ بھائی کی خواہش اور یاد نے انہیں اپنے مقصد کے حصول کے لیے مزید حوصلہ دیا۔

خاندان کی حمایت اور خواتین کی بڑھتی تعداد

ماریہ بلوچ کے مطابق ان کے والدین نے پولیس فورس میں شمولیت کے فیصلے کی مکمل حمایت کی، تاہم خاندان کے بعض دیگر افراد اور کزنز کو ان کا یونیفارم پہننا اور پولیس میں شامل ہونا پسند نہیں تھا۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے شوہر بھی ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

ان کے مطابق جب انہوں نے ضلع چاغی میں پولیس فورس جوائن کی تو وہاں صرف دو خواتین کانسٹیبلز تھیں، جبکہ اب خواتین کانسٹیبلز کی تعداد بڑھ کر 22 سے 25 تک پہنچ چکی ہے۔

پولیس فورس میں خواتین کے لیے پیغام

ماریہ بلوچ کا کہنا ہے کہ عام طور پر سڑکوں اور معمول کے معاملات میں پولیس سے واسطہ پڑنے کے باعث عوام میں محکمے کے بارے میں منفی تاثر پایا جاتا ہے، تاہم ان کا ذاتی تجربہ مختلف رہا ہے۔ انہوں نے آئی جی پولیس، ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز سمیت اعلیٰ پولیس افسران کے رویے کو معاون اور باعزت قرار دیا۔

وہ پولیس یونیفارم اور محکمے سے اپنی محبت اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے دیگر خواتین کو بھی پولیس فورس میں شمولیت کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین اپنی عزت اور وقار کی خود حفاظت کرسکتی ہیں اور مناسب فورم پر شکایات درج کرانے سے مسائل کا ازالہ ممکن ہے۔

ماریہ بلوچ کے نام سے ویمن پولیس اسٹیشن کی منظوری

چاغی میں ایک جرگے کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے ماریہ بلوچ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے نام سے ویمن پولیس اسٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق اے ایس آئی ماریہ ویمن اسٹیشن چاغی کے قیام کی منظوری کابینہ دے چکی ہے۔

تھیلیسیمیا کے شکار بہن بھائیوں کے لیے طبی معاونت کی اپیل

ماریہ بلوچ نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے اپنے ان بہن بھائیوں کے علاج کے لیے طبی معاونت کی اپیل کی ہے جو تھیلیسیمیا کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خاندان کی سب سے بڑی اولاد ہونے کے باعث اپنے بہن بھائیوں کی مالی اور خاندانی ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں۔

انہوں نے آئی جی پولیس سے خواتین افسران کے لیے الگ کوٹہ اور ترقی کا خصوصی نظام بنانے کی بھی درخواست کی ہے تاکہ خواتین افسران کو پولیس فورس میں اعلیٰ عہدوں اور کمانڈ کی ذمہ داریوں تک پہنچنے کے مواقع مل سکیں۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں