11 ستمبر، بابائے قوم کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن
پاکستان کے بانی اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کا 78واں یومِ وفات آج عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ قائداعظم 11 ستمبر 1948 کو وفات پا گئے، تاہم ان کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور آئینی جدوجہد آج بھی پاکستان کی قومی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔
ایک وکیل جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا
قائداعظم کی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے کم عمری میں برطانیہ کا سفر کیا اور لنکنز اِن (Lincoln’s Inn) سے قانون کی تعلیم حاصل کرکے بیرسٹر بنے۔ بعد ازاں بمبئی میں ایک کامیاب وکیل کے طور پر اپنی شناخت بنائی، لیکن وقت کے ساتھ ان کی سیاسی زندگی برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کی جدوجہد سے جڑ گئی۔
پاکستان بننے کے بعد بھی جدوجہد جاری رہی
پاکستان کے قیام کے بعد قائداعظم نے ملک کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق وہ 15 اگست 1947 سے 11 ستمبر 1948 تک اس منصب پر فائز رہے۔
یہ دور انتہائی مختصر تھا، لیکن نئی ریاست کو درپیش انتظامی، معاشی اور سیاسی چیلنجز کے باعث قائداعظم کی ذمہ داریاں غیر معمولی نوعیت کی تھیں۔
دلچسپ حقیقت: قائداعظم کا اسمبلی سے تاریخی تعلق
11 اگست 1947 کو قائداعظم کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا متفقہ صدر منتخب کیا گیا، جبکہ اسی موقع پر قومی پرچم کی منظوری بھی دی گئی۔ اگلے روز اسمبلی نے انہیں باضابطہ طور پر “قائداعظم محمد علی جناح” کہنے سے متعلق قرارداد منظور کی۔
ایمان، اتحاد اور تنظیم کا پیغام
قائداعظم کی سیاسی میراث کا مرکزی پیغام ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کی وفات کے کئی دہائیاں بعد بھی قومی قیادت کی جانب سے ان اصولوں کو پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے رہنما اصول قرار دیا جاتا ہے۔
قائداعظم کی میراث کیا ہے؟
قائداعظم کی سب سے بڑی میراث صرف ایک نئی ریاست کا قیام نہیں بلکہ اصول، آئین، قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی کا وہ تصور بھی ہے جسے انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کے ذریعے اجاگر کیا۔
11 ستمبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف بڑے خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ اصول پسندی، نظم و ضبط، مسلسل محنت اور قومی مفاد کو ترجیح دینے سے مضبوط ہوتی ہیں۔
Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah’s 78th Death Anniversary: Remembering Pakistan’s Founder and His Enduring Legacy



