20، 30 یا 14 ملی گرام فی لیٹر TDS کو بہترین پانی سمجھنا درست نہیں، پانی کے معیار کا فیصلہ صرف TDS سے نہیں ہوتا
اسلام آباد: گھروں میں ریورس اوسموسس (RO) سسٹمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (PCRWR) کی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی کم TDS کو لازماً بہتر یا صحت مند پانی کی علامت سمجھنا درست نہیں، کیونکہ غیر ضروری RO ٹریٹمنٹ پانی میں موجود قدرتی معدنیات بھی کم کر سکتی ہے۔
کم TDS، زیادہ صحت؟ ضروری نہیں
PCRWR کی نیشنل واٹر کوالٹی لیبارٹری کی ڈائریکٹر سائقہ عمران نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ RO سسٹم ان علاقوں میں مفید ہے جہاں پانی میں تحلیل شدہ نمکیات یا مخصوص مضر آلودگیوں کی مقدار زیادہ ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ 100 ملی گرام فی لیٹر سے کم TDS، خصوصاً 20، 30 یا حتیٰ کہ 14 ملی گرام فی لیٹر، کو خود بخود مثالی پینے کا پانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دلچسپ حقیقت: پانی میں معدنیات بھی ضروری ہیں
ماہر کے مطابق RO ٹیکنالوجی پانی سے تحلیل شدہ اجزا، جن میں معدنی نمکیات بھی شامل ہیں، نکال دیتی ہے۔ اگر کسی علاقے کا قدرتی پانی پہلے ہی متعلقہ معیار پر پورا اترتا ہو اور اس میں نقصان دہ کیمیائی یا جراثیمی آلودگی نہ ہو تو غیر ضروری RO ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 300 سے 500 ملی گرام فی لیٹر TDS پانی میں نسبتاً بہتر معدنی مواد فراہم کر سکتا ہے، جبکہ قومی پینے کے پانی کے معیار کے تحت TDS کی زیادہ سے زیادہ حد 1,000 ملی گرام فی لیٹر ہے۔
پاکستان میں TDS کی سطح کہاں کتنی؟
سائقہ عمران کے مطابق پانی میں TDS کی مقدار علاقے کی زمین، چٹانوں اور پانی کے ذرائع کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔
اسلام آباد: تقریباً 300 سے 600 ملی گرام فی لیٹر
ہنزہ کے پہاڑی میٹھے پانی کے ذرائع: تقریباً 200 ملی گرام فی لیٹر
جنوبی پنجاب کے بعض علاقے: TDS نمایاں طور پر زیادہ
چولستان: تقریباً 25,000 سے 30,000 ملی گرام فی لیٹر تک
یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ پانی کے معیار اور مطلوبہ ٹریٹمنٹ کا فیصلہ علاقے اور پانی کے اصل معیار کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے۔
اصل سوال TDS نہیں، پانی کا مجموعی معیار ہے
ماہر نے زور دیا کہ پانی کے علاج کا مقصد صرف TDS کو کم سے کم سطح تک پہنچانا نہیں بلکہ مضر کیمیائی اور جراثیمی آلودگیوں کو دور کرتے ہوئے مناسب معدنی مواد برقرار رکھنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ گھر میں RO سسٹم لگانے سے پہلے اپنے پانی کا معیار باقاعدہ ٹیسٹ کرائیں اور فلٹریشن سسٹم کی بروقت دیکھ بھال اور درست ایڈجسٹمنٹ یقینی بنائیں۔
بوتل بند پانی میں معدنیات دوبارہ شامل کیے جاتے ہیں
سائقہ عمران کے مطابق بوتل بند پانی تیار کرنے والی کمپنیاں عموماً RO ٹریٹمنٹ استعمال کرتی ہیں اور بعد ازاں پانی میں مخصوص معدنیات دوبارہ شامل بھی کر سکتی ہیں۔
ماہر کا کہنا تھا کہ صرف کم ترین TDS حاصل کرنا پانی کو بہترین بنانے کا معیار نہیں؛ اصل توجہ پانی کو محفوظ بنانے اور اس میں مناسب معدنی توازن برقرار رکھنے پر ہونی چاہیے۔
Ultra-Low TDS Water Is Not Necessarily Healthier, PCRWR Expert Warns Against Unnecessary RO Use



