وراثت میں ملنے والی فنکاری، برسوں کی محنت اور موسیقی سے عشق نے ایک بلوچ نوجوان کو بینجو سازی کے فن میں منفرد مقام دے دیا
یہ کہانی کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے بلوچ کاریگر کی ہے جس کی زندگی میں سُروں کی حکمرانی ہے۔ لیاری کی تنگ گلیاں شاید بظاہر محدود نظر آئیں، لیکن انہی گلیوں سے نکلنے والی آوازوں نے اس علاقے کو شہر کی ایک منفرد ثقافتی شناخت دی ہے۔
فٹبال کے میدان، باکسنگ کے رنگ اور موسیقی کی محفلیں لیاری کی پہچان کا حصہ ہیں، اور اسی رنگا رنگ ماحول میں ایک ایسا ہنرمند بھی موجود ہے جس کے ہاتھ بے جان لکڑی میں سُر پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
وراثت میں ملا فن
بینجو سازی کا یہ فن اسے وراثت میں ملا۔ والد نے اپنی پوری زندگی اسی ہنر کو اپنائے رکھا اور بیٹے نے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا۔ مگر یہ انتخاب محض روزگار کے لیے نہیں تھا، بلکہ موسیقی اور فن سے گہری وابستگی نے اسے اس ہنر سے جوڑ دیا۔
لکڑی کا ایک ٹکڑا، چند تاریں اور کئی دنوں کی مسلسل محنت کے بعد ایک ایسا ساز وجود میں آتا ہے جو خاموش لکڑی کو موسیقی کی زبان عطا کردیتا ہے۔
لیاری سے دنیا تک
اس کاریگر کے ہاتھوں سے تیار ہونے والے بینجو نے لیاری کی گلیوں سے نکل کر سرحدوں کے پار تک سفر کیا۔ اس کا فن مختلف ملکوں تک پہنچا اور وہ خود بھی کئی ممالک کا سفر کرچکا ہے، جہاں اس نے اپنے ہنر اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کی۔
فن سے وابستگی اور مسلسل محنت کا اعتراف اسے صدارتی ایوارڈ کی صورت میں بھی ملا۔ ایک عام سے کاریگر کے لیے یہ اعزاز اس کی زندگی بھر کی محنت اور فن سے وفاداری کا بڑا اعتراف ہے۔
شہرت کے باوجود وہی چھوٹی سی ورکشاپ
اعزاز، شہرت اور عالمی سطح تک رسائی کے باوجود اس کاریگر کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ آج بھی لیاری کی اسی تنگ گلی کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھتا ہے۔
سامنے لکڑی کے ٹکڑے، ہاتھ میں اوزار، ساتھ تاریں اور دل میں وہی صبر۔
کیونکہ اس کے لیے بینجو بنانا محض روزگار نہیں، بلکہ ایک ایسا فن ہے جس کے ساتھ اس کی زندگی کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔
یہ کہانی صرف ایک ساز بنانے والے کاریگر کی نہیں، بلکہ اس ہنر کی بھی ہے جو نسل در نسل منتقل ہو کر ثقافت، شناخت اور موسیقی کو زندہ رکھتا ہے۔
Lyari’s Baloch craftsman keeps the traditional art of handmade banjo making alive, earning national recognition and a Presidential Award for his exceptional craftsmanship.



