وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں عوام کو جدید، محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کوئٹہ میں بلوچستان کی پہلی ماس ٹرانزٹ ٹرین سروس جناح پیپلز ٹرین کا افتتاح کردیا۔ منصوبے پر 3 ارب روپے لاگت آئی ہے، جس کا مقصد شہریوں کو سستی، جدید اور بااعتماد سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر ریلوے نے بلوچستان میں پہلی میٹرو ٹرین سروس کے آغاز پر مسرت کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کو مبارکباد دی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جناح پیپلز ٹرین بلوچستان کے عوام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے مزدور، طلبہ، سرکاری ملازمین اور عام شہری مستفید ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سستی اور کارآمد سفری سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، جبکہ سینئر شہریوں، بزرگوں اور خصوصی افراد کے لیے ٹرین کا سفر مفت ہوگا۔
سریاب سے کچلاک تک 7 اسٹیشنز، کرایہ 50 سے 100 روپے مقرر
جناح پیپلز ٹرین سریاب سے کچلاک کے درمیان چلائی جائے گی، جس کے روٹ میں سات اسٹیشنز شامل ہیں:کچلاک،بلیلی،شیخ ماندا،جی او آر،کوئٹہ،لور کاریز،سریاب
ٹرین دو ایئرکنڈیشنڈ کوچز اور ایک پاور وین پر مشتمل ہے، جس میں 198 مسافروں کے بیٹھنے اور 60 مسافروں کے کھڑے ہوکر سفر کرنے کی گنجائش ہے۔ ٹرین کا مجوزہ کرایہ 50 سے 100 روپے رکھا گیا ہے، جبکہ کرایوں کو سبسڈائزڈ اور عام شہریوں کی پہنچ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جناح پیپلز ٹرین سروس کو دو ٹرینوں تک وسعت دی جائے گی
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جناح پیپلز ٹرین سروس کو دو ٹرینوں تک وسعت دی جائے گی اور آئندہ سال تک دونوں سمتوں میں ٹرینیں چلانے کا منصوبہ ہے، جس کے تحت ایک ٹرین کوئٹہ سے جائے گی اور دوسری واپس آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بوستان انڈسٹریل اسٹیٹ تک ریلوے ٹریک کی توسیع پر کام شروع کردیا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں بوستان سے مستونگ تک جناح پیپلز میٹرو ٹرین چلانے کی بھی خواہش ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ چین سے نئے انجن اور بوگیاں منگوانے پر 50 سے 60 ارب روپے لاگت آتی، تاہم پاکستان ریلوے نے جناح پیپلز ٹرین کے لیے اپنے وسائل سے نئے انجن اور بوگیاں تیار کی ہیں۔ یہ منصوبہ پاکستان کے وسائل کو ملک میں استعمال کرنے کی ایک مثال ہے۔
بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ پاکستان مخالف عناصر کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے ریاستی قوت کا استعمال کیا جائے گا اور بلوچستان کو ترقی یافتہ صوبہ بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رہیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور جناح پیپلز ٹرین جیسے عوامی منصوبے صوبے میں سفری سہولیات کے فروغ اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
Jinnah Peoples Train launched in Quetta with affordable fares, free travel for senior citizens and persons with disabilities, and planned expansion towards Bostan and Mastung.



