Facebook YouTube TikTok WhatsApp
پاکستان

تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس دینے میں ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے آگے نکل گیا

✍️ Nazrban Balochistan 📅 07 Oct 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

تنخواہ دار طبقے نے 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 38 فیصد کمی کے بعد وصولی 35.2 ارب روپے رہ گئی

ملک میں تنخواہ دار طبقے نے انکم ٹیکس کی ادائیگی میں ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ایک بار پھر پیچھے چھوڑ دیا۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس کی مد میں 144 ارب روپے وصول ہوئے، جو ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مقابلے میں تقریباً 90 ارب روپے زیادہ ہیں۔

رئیل اسٹیٹ سے ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی

ذرائع کے مطابق رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے انکم ٹیکس وصولی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصد کمی ہوئی اور وصولی 35.2 ارب روپے رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس شعبے سے ٹیکس وصولی 22 ارب روپے کم رہی۔

حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ایڈوانس انکم ٹیکس میں 50 فیصد کمی بھی کی گئی ہے۔ جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد جبکہ خریداری پر ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردی گئی۔

جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس وصولی میں کمی

ذرائع کے مطابق جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی وصولی میں 42 فیصد کمی ہوئی اور یہ 23 ارب روپے رہی۔

اسی طرح جائیداد کی خریداری پر انکم ٹیکس وصولی 31 فیصد کمی کے بعد 12.2 ارب روپے رہی۔

ہول سیلرز اور ریٹیلرز سے 18.4 ارب روپے ٹیکس وصول

ایف بی آر ذرائع کے مطابق ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے تین ماہ کے دوران مجموعی طور پر 18.4 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔

ہول سیلرز کی ٹیکس ادائیگی 10 فیصد کمی کے بعد 6.2 ارب روپے رہی، جبکہ ریٹیلرز نے 11.3 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.3 فیصد زیادہ ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے بعد ٹیکس وصولی کا حصہ بڑھ گیا

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام سے قبل سالانہ ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقے کا حصہ 391 ارب روپے تھا، جو دو سالہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد بڑھ کر 629 ارب روپے ہوگیا۔

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے 52 ارب روپے کے ریلیف کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں بھی 3 فیصد تک کمی کی گئی۔

Salaried class surpasses retail and real estate sectors in income tax payments as tax collection from property sector declines significantly

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑