پاکستان اور افغانستان دنیا کے واحد دو ممالک جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود، نومبر میں 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کی مہم کا اعلان
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 24 اکتوبر کو عالمی یومِ انسدادِ پولیو منایا گیا، جس کا مقصد پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کی تجدید، ویکسی نیشن کی اہمیت اجاگر کرنا اور بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔
پاکستان میں 2026 کے دوران اب تک پولیو کے 7 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 5 خیبر پختونخوا اور 2 سندھ سے سامنے آئے۔ خیبر پختونخوا کے 5 میں سے 4 کیسز جنوبی اضلاع میں رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی
پاکستان نے 1994 کے مقابلے میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی حاصل کی ہے۔ ماضی میں ملک بھر میں سالانہ تقریباً 20 ہزار کیسز سامنے آتے تھے، جبکہ رواں سال اب تک صرف 7 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی 1988 کے بعد پولیو کیسز میں 99 فیصد سے زائد کمی آچکی ہے، تاہم پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس کی منتقلی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
نومبر میں 2 کروڑ 39 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف
پاکستان میں رواں سال اب تک دو ملک گیر اور دو علاقائی انسدادِ پولیو مہمات چلائی جا چکی ہیں، جبکہ کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
آئندہ انسدادِ پولیو مہم 2 سے 8 نومبر 2026 تک ملک کے 97 منتخب اضلاع میں چلائی جائے گی، جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ملک بھر میں 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پولیو لاعلاج مگر ویکسین سے بچاؤ ممکن، طبی ماہرین
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو اعصابی نظام کو متاثر کرکے مستقل معذوری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔
پولیو کا کوئی علاج موجود نہیں، تاہم حفاظتی ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
صحت کے حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو لازمی قطرے پلوائیں تاکہ پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کا خواب حقیقت بن سکے۔
World Polio Day 2026: Pakistan Reports 7 Polio Cases, Launches November Vaccination Campaign Targeting 23.9 Million Children



