پاک چین اقتصادی تعاون بلوچستان کے قدرتی وسائل کو معاشی خوشحالی میں تبدیل کرنے، صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، وائس چیئرمین بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ
سی پیک نے بلوچستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کے ساتھ صوبے میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے، بلال خان کاکڑ
چینی سرمایہ کاری بلوچستان کی صنعتی ترقی اور معاشی خوشحالی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے
اسلام آباد: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی اعتماد اور مضبوط اقتصادی تعلقات بلوچستان میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور معاشی خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور معدنی شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کی شراکت داری صوبے کے قدرتی وسائل کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے، صنعتی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں چینی کاروباری نمائندے مسٹر ڈو جون جی (Du Junjie) سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالمنان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بلوچستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات، معدنی ذخائر کی تلاش و ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، صنعتی تعاون اور حکومت بلوچستان کے ساتھ چینی سرمایہ کاروں کی ممکنہ شراکت داری سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سی پیک بلوچستان کی اقتصادی اہمیت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو مزید مستحکم کر سکتا ہے
بلال خان کاکڑ نے کہا کہ چین نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور صنعتی شعبے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سی پیک جیسے اہم منصوبے نے بلوچستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کو نمایاں کرنے کے ساتھ صوبے میں موجود وسیع اقتصادی اور سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی تعلقات کو عملی سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کیا جائے تاکہ بلوچستان کے معدنی وسائل سے مؤثر استفادہ کرتے ہوئے صوبے میں صنعتی ترقی، معاشی استحکام اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔
بلوچستان کے معدنی وسائل میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے وسیع مواقع موجود ہیں
وائس چیئرمین بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، بالخصوص قیمتی معدنی ذخائر کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل صوبہ ہے۔ ان وسائل کی جدید سائنسی بنیادوں پر تلاش، ترقی اور مؤثر استعمال کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری، تکنیکی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے سے صوبے میں معدنی صنعتوں کے قیام، صنعتی پیداوار میں اضافے، مقامی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
پاک چین اقتصادی شراکت داری کو عملی سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
بلال خان کاکڑ نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ باہمی اعتماد، مشترکہ اقتصادی مفادات اور پائیدار ترقی کے مضبوط اصولوں پر استوار ہیں۔
Balochistan Investment Board Vice Chairman Bilal Khan Kakar Highlights Chinese Investment Opportunities in Mining Sector and CPEC-Led Economic Development
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کی دلچسپی دونوں ممالک کے لیے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کا ایک اہم موقع ہے۔ اس سلسلے میں سرمایہ کاری کے قابلِ عمل منصوبوں کی نشاندہی، تکنیکی تعاون کے فروغ اور مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات سے فائدہ اٹھا کر صوبے کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور صنعتی ترقی کے مواقع بڑھیں گے
وائس چیئرمین بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کا فروغ نہ صرف صوبے کی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے مقامی آبادی، بالخصوص نوجوانوں کے لیے روزگار، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بلوچستان اور چینی سرمایہ کاروں کے درمیان بڑھتا ہوا اقتصادی تعاون مستقبل میں صوبے کی صنعتی ترقی، معاشی استحکام اور مقامی آبادی کی خوشحالی کے لیے مثبت اور دیرپا نتائج کا باعث بنے گا۔



