Facebook YouTube TikTok WhatsApp
کوئٹہ

کوئٹہ میں طویل خشک موسم، صحت اور پانی کے بحران پر تشویش بڑھ گئی

✍️ Nazrban Balochistan 📅 01 Nov 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

بارشوں کی کمی، گردوغبار اور پانی کی قلت سے شہری مشکلات کا شکار؛ سانس اور موسمی بیماریوں کا خطرہ بڑھنے لگا

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کئی ماہ سے بارشیں نہ ہونے کے باعث خشک موسم نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ گردوغبار، خشک ہواؤں اور پانی کی قلت کے باعث شہریوں کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

بلوچستان میں بارشوں کی نمایاں کمی

دسمبر 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر سے نومبر 2025 کے دوران بلوچستان میں معمول سے 41.9 فیصد کم بارش ہوئی، جبکہ جولائی سے ستمبر 2026 کے مون سون سیزن میں بھی بارشیں معمول سے 33.7 فیصد کم رہیں۔ یہ صورتِ حال صوبے میں خشک سالی کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔

گردوغبار سے سانس کی بیماریوں کا خطرہ

ماہرین کے مطابق فضا میں موجود باریک ذرات، گردوغبار اور دھواں کھانسی، گلے کی جلن، الرجی اور دمے کی علامات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ کوئٹہ کے اسپتالوں میں کھانسی، نزلہ، زکام، بخار اور فلو کے مریضوں کی آمد بھی رپورٹ ہوئی ہے۔

پانی کی قلت نے مشکلات بڑھا دیں

واسا کے اعدادوشمار کے مطابق کوئٹہ کی روزانہ پانی کی ضرورت تقریباً 6 کروڑ گیلن ہے، جبکہ فراہمی 3 کروڑ 15 لاکھ 75 ہزار گیلن کے قریب ہے۔ شہر کے 544 ٹیوب ویلز میں سے 387 فعال ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جو پانی کی قلت کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔

شہریوں کے لیے احتیاط اور اداروں سے مطالبہ

طبی ماہرین کی عمومی ہدایات کے مطابق گردوغبار میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز، ضرورت کے وقت ماسک کا استعمال اور صاف پانی پینا مفید احتیاطی اقدامات ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے پانی کی فراہمی بہتر بنانے، فضائی آلودگی پر قابو پانے اور بارشوں کی کمی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئٹہ میں خشک موسم اب صرف موسمی مسئلہ نہیں رہا بلکہ صحت، ماحول اور پانی کی فراہمی سے جڑا ایک اہم چیلنج بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔

Quetta Faces Growing Health and Water Crisis Amid Prolonged Dry Weather and Lack of Rainfall

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑