Facebook YouTube TikTok WhatsApp
GOB

گورنر بلوچستان کا خاندانی منصوبہ بندی اور نوجوانوں کی مہارتوں کے فروغ پر زور

✍️ Nazrban Balochistan 📅 25 Jul 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر کہا کہ آبادی میں اضافے پر مؤثر کنٹرول اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی کو یونین کونسل کی سطح تک وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی مہم کو ضلع اور یونین کونسل کی سطح تک توسیع دی جائے اور آبادی میں تیز رفتار اضافے پر قابو پانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستان اور بلوچستان کی آبادی کو پائیدار امن، خوشحالی اور معاشی ترقی کے لیے ایک مضبوط افرادی قوت میں تبدیل کیا جا سکے۔

وہ جمعہ کو عالمی یومِ آبادی کے موقع پر کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو، پارلیمانی سیکریٹری پرنس آغا عمر احمدزئی، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر نواز کبزئی، صوبائی سیکریٹری ظفر بولیدی، یو این ڈی پی کے ذوالفقار درانی، سابق سینیٹر روشن خورشید بروچہ، بی آر ایس پی کے چیئرمین ملک انور سلیم کاسی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید، ڈائریکٹر گورنر سیکرٹریٹ عطاالرحمن خلجی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ کسی بھی ملک کی آبادی کا تعلق عوام کے معیارِ زندگی، روزگار کے مواقع اور معاشی خوشحالی سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے اختتام تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے ملک کو دو بڑے چیلنجز درپیش ہوں گے۔ ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا مؤثر انتظام اور دوسرا اس آبادی کو ہنر مند، صحت مند اور پیداواری افرادی قوت میں تبدیل کرنا۔

جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان خطے کا سب سے زیادہ نوجوان آبادی والا ملک ہے جبکہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے نوجوان صوبہ ہے۔ ان کے مطابق یہ نوجوان آبادی ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، تاہم مستقبل کا انحصار صرف آبادی کی تعداد پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتیں، روزگار کے مواقع اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے کس حد تک بااختیار بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ سرکاری شعبے کی جامعات میں اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کا آغاز کیا جا چکا ہے، جن کے مثبت نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں