Facebook YouTube TikTok WhatsApp
GOB

گورنر بلوچستان کا ’یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ‘ سے خطاب، یونیورسٹی آف بلوچستان میں AI پروگرام شروع کرنے کا اعلان

✍️ Nazrban Balochistan 📅 13 Aug 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

نیویارک: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں ’یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

بلوچستان میں اے آئی تعلیم اور ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات

گورنر بلوچستان نے کہا کہ عالمی سربراہی اجلاس موجودہ دور کے دو اہم عوامل، نوجوانوں اور مصنوعی ذہانت پر مرکوز ہے۔ نوجوان پوری انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت چوتھے صنعتی انقلاب کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلی مرتبہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروگرام شروع کیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹی کو مکمل طور پر پیپرلیس ادارے میں تبدیل کیا گیا ہے، جو ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید تعلیم کی جانب اہم قدم ہے۔

جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ اگلے مرحلے میں بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروگرام اور پیپرلیس یونیورسٹی ماڈل کو صوبے کی دیگر پبلک سیکٹر جامعات تک وسعت دی جائے گی۔

AI education is creating new opportunities for Balochistan’s youth to develop digital skills and innovative solutions.

اے آئی تعلیم، صحت اور گورننس سمیت مختلف شعبوں میں تبدیلی کا ذریعہ

گورنر بلوچستان نے کہا کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جو محض تکنیکی رجحان نہیں بلکہ مستقبل کی ترقی اور انسانی بقا کو تشکیل دینے والی قوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، مالیات اور پبلک گورننس سمیت تمام اہم شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں لا رہی ہے۔ ان تبدیلیوں کے پیش نظر بلوچستان کی تمام 11 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کی مضبوط بنیادیں رکھی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقصد طلبہ کو فلسفیانہ تجسس، سائنسی علم اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ عالمی معیار کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔

نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے بااختیار بنانے پر زور

جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے بااختیار بنانے کے لیے تعاون اور فکری رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے نوجوان ترین ممالک میں شامل ہے اور آبادی کا تقریباً 64 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جبکہ بلوچستان بھی نوجوان آبادی کے اعتبار سے نمایاں صوبہ ہے۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ نوجوان ٹیلنٹ اور عزم میں کسی سے پیچھے نہیں، تاہم انہیں مواقع اور رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔

تھیوری سے اپلائیڈ ریسرچ کی جانب بڑھنے کی ضرورت

گورنر بلوچستان نے کہا کہ محض تھیوری اور لیکچر پر مبنی کلاسز کے بجائے اپلائیڈ ریسرچ اور عملی حل کی جانب بڑھنا ہوگا تاکہ معاشی، زرعی اور سماجی چیلنجز کا دیرپا حل تلاش کیا جاسکے۔

انہوں نے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہنر انہیں ملازمت کے متلاشیوں کے بجائے روزگار فراہم کرنے والوں میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ نوجوانوں کو فلسفہ، ٹیکنالوجی اور مواقع سے بااختیار بنا کر خوشحال، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان اور بلوچستان کی تعمیر ممکن ہے۔

ذمہ دار اور جامع اے آئی مستقبل کی تشکیل کا عزم

گورنر بلوچستان نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایک ذمہ دار مصنوعی ذہانت پر مبنی مستقبل کی تشکیل کے لیے کھڑا ہے، جس میں سب کو شامل کیا جائے اور کسی کو پیچھے نہ چھوڑا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، بالخصوص مصنوعی ذہانت کو اپنانے میں ناکامی ہوئی تو انسانی ترقی کے مختلف شعبوں میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہے۔

یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ میں 186 ممالک کے مندوبین شریک ہیں۔ گورنر بلوچستان نے یوتھ انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے زیر اہتمام گلوبل سمٹ کے کامیاب انعقاد پر منتظمین اور شرکاء کو مبارکباد بھی پیش کی۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں