صوبائی وزیر تعلیم، صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان، ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ اور اسمبلی کی خواتین ارکان نے پریس کانفرنس میں نوشکی میں دو خواتین کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد خواتین کو نشانہ بنا کر اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے۔
خواتین کے قتل پر شدید تشویش
صوبائی وزیر تعلیم اور دیگر خواتین ارکان اسمبلی نے کہا کہ نوشکی میں دو خواتین کو گھر میں داخل ہوکر قتل کرنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون روایات میں خواتین کو عزت اور احترام حاصل ہے، اس لیے گھروں میں داخل ہوکر خواتین کو قتل کرنا کسی صورت بلوچ روایات کا حصہ نہیں۔
دہشتگردوں کا بیانیہ ناکام ہوچکا
مینا مجید نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان اور بلوچ عوام کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ دہشتگردوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے اور ان کا بیانیہ اب مزید نہیں چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان میں امن، ترقی، خوشحالی اور تعلیم نہیں چاہتے، تاہم صوبے میں امن دشمنوں کو شکست دی جائے گی۔
خواتین کو نشانہ بنانے کی تحقیقات کا مطالبہ
رہیلہ درانی، غزالہ گولہ اور دیگر خواتین ارکان نے کہا کہ خواتین کو نشانہ بنا کر دہشتگرد اپنے عزائم حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے خواتین پر حملوں کی وجوہات اور واقعات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن، ترقی، خوشحالی اور تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔
پریس کانفرنس کی مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے لنک:
Watch Full Video: https://www.youtube.com/watch?v=4bh_DXPdv1U



