وزیراعظم نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کی ترقی، وسائل پر صوبے کے حق، بنیادی ڈھانچے، امن و امان اور قومی یکجہتی کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
بلوچستان کا پاکستان سے الحاق رضاکارانہ تھا
وزیراعظم نے کہا کہ 1947ء میں بلوچستان کے بزرگوں اور قبائلی رہنماؤں، جن میں قاضی محمد عیسیٰ، میر جعفر خان جمالی اور اکبر خان بگٹی شامل تھے، نے اپنی آزاد مرضی اور یقین کے ساتھ پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ 1950ء، 1955ء اور 1970ء کے سیاسی واقعات اور ان کے حل کے طریقہ کار پر بحث ہوسکتی ہے، تاہم بلوچستان 1970ء میں پاکستان کا چوتھا صوبہ بن گیا اور اب باہمی اعتماد، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے بلوچ اور پشتون قبائل کی بہادری، مہمان نوازی اور رواداری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
415 ارب روپے کا N-25 ایکسپریس وے منصوبہ
وزیراعظم نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک خطرناک شاہراہ کو ایکسپریس وے میں تبدیل کرنے کے لیے 415 ارب روپے کا منصوبہ منظور ہوچکا ہے اور کام شروع کردیا گیا ہے۔ منصوبے کے لیے تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی سے حاصل ہونے والی بچت استعمال کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی قلت، لوڈشیڈنگ اور بجلی چوری کے خاتمے کے لیے 70 ارب روپے سے 20 ہزار سے 22 ہزار زرعی ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں وفاق نے 40 ارب اور بلوچستان حکومت نے 30 ارب روپے فراہم کیے۔ اب تک 20 ہزار سے زائد سولر ٹیوب ویلز نصب ہوچکے ہیں۔
Balochistan’s development depends on peace, investment, infrastructure and economic opportunities.
گوادر پورٹ اور بلوچستان کے وسائل
وزیراعظم نے گوادر پورٹ کو اہم قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بندرگاہ ایک لاکھ ٹن وزنی بحری جہازوں کو سنبھال سکتی ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کے دور میں وفاقی حکومت کی 60 فیصد درآمدات، جن میں گندم اور مشینری شامل ہے، گوادر کے ذریعے لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے گوادر کے قریب تعمیر کیے گئے جدید ایئرپورٹ کو چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے تحفہ قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع معدنی اور لوہے کے ذخائر پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے۔ ان وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے سرمایہ، مہارت اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
بلوچستان کے لیے اضافی مالی وسائل
2010ء کے این ایف سی ایوارڈ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب، نے بلوچستان کے لیے اپنے حصے سے سالانہ 11 ارب روپے فراہم کیے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف تعلیمی پروگراموں اور وفاقی ترقیاتی اسکیموں میں بلوچستان کو آبادی کے تناسب سے 10 فیصد اضافی حصہ دیا جاتا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے اور گرینڈ ڈائیلاگ پر زور
وزیراعظم نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد معصوم مزدوروں، اساتذہ اور انجینئرز کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار اپنے بچوں کو یتیم چھوڑ کر لاکھوں پاکستانی بچوں کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے گرینڈ ڈائیلاگ کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جائز شکایات سننے کے لیے تیار ہے اور مشکل ترین مسائل بھی مہذب، کھلے اور بامقصد مکالمے کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔



