Facebook YouTube TikTok WhatsApp
GOB

بلوچستان میں سرکاری محکموں کی تنظیمِ نو کا فیصلہ، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا غیر ضروری اخراجات کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان

✍️ Nazrban Balochistan 📅 14 Oct 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

گورننس کی بہتری کے لیے سرکاری محکموں میں اصلاحات

کوئٹہ: بلوچستان میں گورننس کی بہتری، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام سرکاری محکموں کی تنظیمِ نو اور اصلاحات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے غیر ضروری بھرتیوں، بڑھتے ہوئے غیر ترقیاتی اخراجات اور محکموں کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو جامع سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا، جبکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر غور کیا گیا۔

سرکاری محکموں کی تنظیمِ نو، غیر ضروری اخراجات کم کرنے کی تیاری

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکساں نوعیت کے فرائض انجام دینے والے محکموں کے انضمام، غیر ضروری افرادی قوت میں کمی اور سرکاری وسائل کے بہتر استعمال کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام سیکرٹریز اپنے اپنے محکموں کی ضروریات، کارکردگی اور اخراجات کا جائزہ لے کر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کریں، تاکہ انتظامی امور میں بہتری لانے کے ساتھ عوامی خدمات کی فراہمی کو بھی مؤثر بنایا جا سکے۔

عوام کے ٹیکس کی ایک ایک پائی قومی امانت ہے، وزیراعلیٰ

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل قومی امانت ہیں اور سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری محکموں میں اصلاحات اب ناگزیر ہو چکی ہیں اور عوام کو بہتر، تیز رفتار اور مؤثر خدمات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے، جبکہ سرکاری محکموں کو بھرتیوں کی فیکٹریاں بنا دیا گیا ہے۔ اس صورتِ حال کے باعث ادارے اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دب رہے ہیں اور عوام کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

گورننس کے مسائل کی ذمہ داری اپنے اوپر لینا ہوگی، سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان نے گورننس کی خراب صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے انتظامی مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنے نظام اور فیصلوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مسائل کے حل کے لیے داخلی کمزوریوں کی نشاندہی اور اصلاح ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بہتری کے لیے سخت مگر درست فیصلے کرنا ہوں گے اور اصلاحات کے عمل میں مشکل اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

تمام سیکرٹریز کو جامع اصلاحاتی تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ محکمہ جاتی اصلاحات، اخراجات میں کمی، افرادی قوت کے مؤثر استعمال اور عوامی خدمات کے معیار میں بہتری کے لیے جامع سفارشات مرتب کریں۔

اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، جبکہ سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس کل بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ تمام متعلقہ محکموں کی تجاویز کا جائزہ لے کر نتیجہ خیز لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

حکومت بلوچستان کے اس اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، غیر ضروری اخراجات پر قابو پانا اور صوبائی وسائل کو عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی ترجیحات کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔

Balochistan CM Sarfraz Bugti Orders Government Department Restructuring and Reforms to Improve Governance and Public Services

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑