Facebook YouTube TikTok WhatsApp
GOB

بلوچستان میں انسداد دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد

✍️ Nazrban Balochistan 📅 01 Oct 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس، حکومت بلوچستان، سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد کے اشتراک سے کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد کے حوالے سے صوبائی سطح کا پالیسی ڈائیلاگ منعقد کیا گیا۔

ادارہ جاتی اور پارلیمانی تعاون مضبوط بنانے پر زور

پالیسی ڈائیلاگ کی مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی تھیں، جبکہ رکن بلوچستان اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی، رکن بلوچستان اسمبلی شاہدہ رؤف، اسپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ عبدالسلام خان اچکزئی، ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ، ڈاکٹر عصمت خان اچکزئی، سیکرٹری ویمن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ شیر شاہ غلزئی، ایڈیشنل سیکرٹری کالجز عبدالمالک اچکزئی، صوبائی محتسب طاہرہ بلوچ، ایڈیشنل سیکرٹری سوشل ویلفیئر عنایت اللہ کاسی، ایڈیشنل سیکرٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز امجد حسین، سیکیورٹی ایکسپرٹ آصف اور علاؤالدین خلجی سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ڈائیلاگ کا مقصد بلوچستان میں انسداد دہشت گردی، انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قانون ساز اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

نوجوانوں کی شمولیت اور مثبت مکالمے کی اہمیت

مہمان خصوصی راحیلہ حمید خان درانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بدقسمتی سے دہشت گردی اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کا بڑا ہدف رہا ہے، اس لیے خصوصاً نوجوانوں کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مکالمے کا سلسلہ جاری رہنے سے زیادہ لوگوں کو اس عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔رکن بلوچستان اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجوہات کو گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے تاکہ ان کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے انڈیکس سے باہر نکالنے کے لیے وزیراعظم کو بلوچستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا۔

گڈ گورننس اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر زور

رکن بلوچستان اسمبلی شاہدہ رؤف نے کہا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹرینز کو انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کی اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کائینیٹک اور نان کائینیٹک دونوں طریقے اہم ہیں، جہاں سیکیورٹی ادارے کائینیٹک اقدامات کرتے ہیں، جبکہ نان کائینیٹک اقدامات میں گڈ گورننس، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نفاذ کے خلا کو پُر کرنا شامل ہے۔

A coordinated approach involving institutions, communities and young people is central to preventing violent extremism.

نوجوانوں کی تربیت اور خواتین کی شمولیت پر توجہ

دیگر مقررین نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف معاشرے اور تمام متعلقہ محکموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ خواتین کو مؤثر طور پر شامل کرنے کے ساتھ بچوں کی مثبت ذہن سازی اور تربیت پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔مقررین نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ہنر مندانہ پلیٹ فارمز، اساتذہ کی تربیت اور فکری و اخلاقی تعلیم کے فروغ پر بھی زور دیا۔ پالیسی ڈائیلاگ کے اختتام پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی و جمہوری مکالمے کی فضا پیدا کرنے اور صوبوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑