دُکی، تربت اور موسیٰ خیل میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ، عوامی مسائل پر مشاورت اور منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور
ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ
بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت دُکی، تربت اور موسیٰ خیل میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دُکی میں ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال کے ہمراہ مختلف منصوبوں کا دورہ کیا، جہاں متعلقہ افسران اور منصوبوں کے ذمہ داران نے تعمیراتی کام، معیار اور تکمیل کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں کا موقع پر معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی معیار برقرار رکھنے اور کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے منصوبوں کا مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی اور ضلع دُکی میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
تربت میں عوامی مسائل پر مشاورت
تربت کے علاقے میرانی میں بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل پر مشاورت کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ اور کمانڈنٹ دشت کی زیرِ صدارت کھلی کچہری میں متعلقہ محکموں کے نمائندگان کے ساتھ کڈان، کنچتی، سنگئی، اچانک، کُنٹی دار، بالین گاؤں اور بلنگور کے معززین نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں بی ایس ڈی آئی منصوبوں کی صورتحال کے ساتھ علاقائی سیکیورٹی، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ نے عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر متعلقہ محکموں کے باہمی تعاون سے اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
The BSDI projects aim to improve basic services and accelerate development across Balochistan
موسیٰ خیل میں منصوبوں کی تکمیل پر پیش رفت
موسیٰ خیل میں بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور تکمیل کا جائزہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سربراہان اور ایگزیکٹو انجینئرز نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ون کا 95 فیصد جبکہ فیز ٹو کے ترقیاتی منصوبوں کا تقریباً 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ فیز تھری کے لیے تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور جلد عملی کام شروع کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی فرم یا ٹھیکیدار کو سب کنٹریکٹر کے ذریعے کام کرانے کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ متعلقہ افسران کو عوامی فنڈز کے شفاف استعمال اور منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔



