Facebook YouTube TikTok WhatsApp
پاکستان

بلوچستان کو سمجھنے کے لیے تاریخ، جغرافیہ اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

✍️ Nazrban Balochistan 📅 04 Oct 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو سمجھنے کے لیے صوبے کی تاریخ، جغرافیہ، سماجی ساخت، سیاسی ارتقا اور موجودہ زمینی حقائق کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مخصوص واقعات یا یک طرفہ بیانیے کی بنیاد پر بلوچستان کے ماضی اور حال کو سمجھنا ممکن نہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل مؤثر گورننس، میرٹ، سیاسی شمولیت، نوجوانوں کے لیے مواقع، معاشی ترقی اور ریاستی رٹ کے مؤثر نفاذ سے جڑا ہے۔

بلوچستان کی قدیم تہذیبی تاریخ

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان ہزاروں سال پرانی تہذیبی تاریخ رکھتا ہے، جبکہ مہرگڑھ اس خطے کی قدیم تہذیبی اہمیت کا نمایاں ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخی معاملات کو سمجھنے کے لیے مستند دستاویزی ریکارڈ اور تاریخی شواہد سے رجوع کرنا چاہیے، جبکہ بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق سمیت اہم تاریخی معاملات کو جذباتی یا یک طرفہ بیانیے کے بجائے حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

پسماندگی کو تشدد کا جواز نہیں بنایا جاسکتا

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے پسماندگی کو واحد وجہ قرار دینا درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی تفاوت دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہے، تاہم کسی بھی علاقے کی محرومی یا پسماندگی کو تشدد اور معصوم شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔

نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کررہے ہیں

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلیج کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، حکومت نوجوانوں کو سن رہی ہے اور ان کے مسائل کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی بیسڈ میرٹ پر بھرتیاں، غیر فعال اسکولوں کی بحالی، آؤٹ آف اسکول بچوں کی واپسی، نئے اسکولوں اور کلاس رومز کا قیام، تقریباً 17 ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی اور صحت کی سہولیات میں توسیع حکومتی اقدامات کا حصہ ہیں۔

امن اور ترقی لازم و ملزوم ہیں

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ امن اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، امن و امان کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید پولیسنگ، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، مؤثر پراسیکیوشن اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ نوجوانوں کو تشدد کے بجائے تعلیم، روزگار اور تعمیری سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔

سیاسی مسائل کا حل سیاسی عمل سے ممکن ہے

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی عمل موجود ہے اور حکومت سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ آئین اور قانون کے دائرے میں سیاسی اختلاف اور مسائل کے حل کے تمام جمہوری راستے کھلے ہیں۔

بلوچستان کا پائیدار حل کیا ہے؟

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل پر قومی سطح کی بحث تحقیق اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ حقائق اور تصورات میں فرق کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا پائیدار راستہ آئین، جمہوری سیاست، مؤثر گورننس، تعلیم، معاشی مواقع اور امن و امان کے امتزاج میں ہے، ماضی کو درست طور پر سمجھ کر حال کے چیلنجز کا حقیقت پسندانہ جائزہ اور مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی بلوچستان کو امن، استحکام اور ترقی کی جانب لے جاسکتی ہے۔

CM Balochistan Sarfraz Bugti: Sustainable Solution to Balochistan’s Issues Lies in Good Governance, Education, Jobs and Peace

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑